حکومت آرٹیکل50پرعملدرآمدسے قبل عوام کوحقائق سے آگاہ کرے،کامران حسین
  15  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
ڈیوزبری(اعجاز فضل سے) برطانیہ کی تیسری بڑی سیاسی پارٹی لیبرل ڈیموکریٹس کی وفاقی پالیسی کمیٹی کے رکن ممتاز قانون دان کامران حسین نے برطانوی ہاؤس آف لارڈز کی طرف بریگزٹ بل منظور کرنے پر اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ایوانوں نے بل کی منظوری کے بعد آرٹیکل 50 کے تحت تمام اختیارات اب قومیامے کو دے دئے ہیں جبکہ انہوں نے لیبر پارٹی خاص طورپر جیرمی کوربین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ساتھ ہوکر برطانیہ کی معیشت کی تباہی کے بل کو منظور کیا ہے جسکے نتائج جلد برطانوی عوام کو ملنا شروع ہوجائیں گے۔ کامران حسین نے کہا کہ برطانیہ میں ریفرنڈم کے بعد سے مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے جبکہ آرٹیکل 50پر عملدرآمد کے بعد برطانیہ میں بڑے معاشی بحران کا خطرہ ہے جسکے لئے ٹوری حکومت نے کوئی منصوبہ بندی تیار نہیں کی جس سے ملک کے اندر مسائل بڑھ جائیں گے۔ کامران حسین نے کہا کہ برطانیہ کی تاریخ میں اس وقت بے روزگاری عروج پر ہے حکومت لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر کر رہی ہے لوگوں کے پرنسنل بینیفٹس پر کٹ لگائے جارہے ہیں ان حالات میں عام آدمی کی گزر بسر مشکل نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبرل ڈیموکریٹس کی روز اول سے پالیسی عوامی مفاد میں رہی ہے ہم نے ٹوری حکومت کا ساتھ برطانیہ کے عوام کے وسیع مفاد میں چھوڑا تھا۔ کامران حسین نے کہا کہ وہ اور انکی پارٹی آج بھی اس مؤقف پر قائم ہے کہ ریفرنڈم کے حوالے سے حکومت نے عوام کو مس لیڈ کیا جسکی وجہ سے عوام نے اسکے خلاف ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا حکومت عوام کو آرٹیکل 50 پر عملدرآمد کرنے سے قبل ایک بار پھر حقائق سے آگاہ کرے۔ ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے ہمارا دفاع اور معیشت یورپ کیساتھ رہنے سے مزید مضبوط اور مستحکم ہوگا۔ کامران حسین نے کہا کہ اینھنک کمیونٹی خاص طورپر ایشین کا ریفرنڈم کے حوالے سے ووٹ حاصل کرنے کیلئے سپائوس ویزہ اور دیگر امیگریشن پالیسیز کے حوالے سے بھی عوام کو مس گائیڈ کیا گیا اور ان سے غلط بیانی پر ووٹ حاصل کئے گئے جس پر آج حقائق لوگوں کو معلوم پڑ رہے ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved