وفاقی حکومت طالبات میں حجاب کی حوصلہ افزائی کرے،حافظ عبدالاعلیٰ
  16  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
بریڈفورڈ(پ ر) مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے سیکرٹری اطلاعات مولانا حافظ عبدالاعلیٰ درانی نے کہاہے، میاں عبدالمنان نے اسلام کے حکم حجاب کی صحیح ترجمانی کی ہے ، جس پر وہ اہل اسلام کی جانب سے شکریے کے مستحق ہیں،حجاب عورت کی ایک فطری ضرورت بھی ہے ،اور اس کی عزت و وقارکی ضمانت بھی ، جو لوگ اسے بے حجاب دیکھنا چاہتے ہیں ان کی اس خواہش کے پیچھے کوئی قابل قدرسوچ اور نظریہ نہیں ہے ۔ پنجاب کی حکومت ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ طالبات میں حجاب کی حوصلہ افزائی کرے ،انہوں نے کہاکافی عرصہ سے مادرپدرمعاشرہ کے خواہاں نام نہاد لبرلز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بنیادی نظریات کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں ، وہ لوگ بھول گئے کہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے ملک پاکستان کو اسلامی نظام کی ایک تجربہ گاہ قراردیاتھااورجب قائد سے پوچھا گیاکہ اس ملک کاقانون کونسا ہوگا تو انہوں نے فی الفورجواب دیاکتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہماراقانون ہے لیکن بعد میں آنے والے امریکہ و روس کی چال اور جال میں ایسا پھنسے کہ انہیں اس ملک کی بنیادوں پر کام کرنے کا شعور رہا نہ ہوش ، حتی کہ ملک کی حیثیت جمہوریہ کی رہی نہ اسلامی ، جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اس کے نظریاتی تحفظ کے لیے بعض اقدامات کیے لیکن انہوں نے ان کے نفاذ میں لیت و لعل سے کام لیاورنہ اب تک یہ ملک خالص اسلامی اور جمہوری بن چکا ہوتامولاناعبدالاعلی نے کہاوفاقی حکومت کو چینلوں پر آنے والی خواتین کیلئے کم از کم ڈوپٹہ لازم قرار دیناچاہیئے تاکہ بے راہروی اور بے حیائی پر کچھ کنٹرول ہوسکے ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے حیائی کو فروغ دینے والوں کو علم ہونا چاہیئے کہ حجاب کسی مولویانہ معاشرے کانمونہ نہیں ہمارے رب اور رسول کا حکم ہے ، خاتم النبینۖ کا گھرانہ مکمل باحجاب تھا۔تمام امہات المومنین تمام بنات نبی ۖباحجاب تھیں، یہ اسلامی معاشرے کاشعار ہے جس کاانکار جہالت اورجہنم کا راستہ ہے ، انہوں نے کہاکون کہتاہے کہ پردہ عورت کی ترقی میں رکاوٹ ہے ، وطن عزیزکی ایک بیٹی شہناز لغاری باحجاب رہ کر پائلٹ بنی اورکتنے اداروں میںباحجاب ہماری بہنیں کام سرانجام دے رہی ہیں، حجاب میں عورت کی عزت اور تحفظ ہے جو لوگ عورت کوعریاں دیکھنا چاہتے ہیں وہ ذہنی بیمار اور یورپ کے فکری غلام ہیں جبکہ یورپی معاشرہ خود دو رخا ہے کہ ان کیمقدس عورتیں (ننیں) تو باحجاب ہوں حتی کہ ہاتھوں پر دستانے تک چڑھائیں لیکن عام عورتیں ننگی رہیں اس کے باوجود ان کے ہاں بھی قدرباحجاب خواتین کی سمجھی جاتی ہے مولاناعبدالاعلیٰ نے کہاعدالتوں نے توہین رسالت کانوٹس لے کرخیبرپختونخواہ حکومت نے بچوں کیلئے قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کوحصہ نصاب بناکر اور پنجاب حکومت نے بچیوں میں حجاب کی حوصلہ افزائی جیسے کام کرکے معاشرے کواصلاح و فلاح کی جانب رواں کردیاہے ، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، ٹی وی چینل پربے حیائی کو فروغ دینے والے تمام ڈرامے اور ٹیلی فلمیں بھی بند کی جائیں اور اس کیلئے پیمراکاصرف ایک نوٹس کافی ہے ۔حیرت ہے اتنی زبردست قوت و طاقت رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اللہ و رسول کاراستہ اپنانے سے کیوں کتراتے ہیں ۔بیان کے آخر میں مولاناعبدالاعلیٰ نے کہااگر اللہ و رسول کے قوانین کونافذکیاجائے تو باران رحمت ہی برسے گی اور ملک ترقی کی راہ پرباذن اللہ گامزن ہوگا ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved