چینلزریٹنگ کے چکرمیں پاکستان کامذاق بنارہے ہیں،راجہ امجد
  16  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

برمنگھم(پ ر) سیکرٹری جنرل کل جماعتی بین الاقوامی کشمیر رابطہ کمیٹی راجہ امجد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے کچھ ٹی وی اینکر اپنے ٹی وی کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے پاکستان کے معیار کو عالمی دنیا کے سامنے مذاق بنوارہے ہیں۔ ان کا طریقہ بیان قابل مذمت ہے۔ یہ مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کی ذاتی مخالفت جانتے ہیں اور ان کو بلاکر ایک دوسرے کے سامنے بٹھاکر اختلافی باتیں اور الزام تراشیاں سامنے بیان کرکے سیاسی رواداری کا خاتمہ کر رہے ہیں اور ہمارے لیڈر وہاں عوام کے سامنے ایک دوسرے کی ذاتیات پر لفظی گولہ باری کرتے کرتے اخلاقی حدیں کراس کر جاتے ہیں جو بعد میں عوامی مخالفت دشمنی میں منتقل ہوجاتی ہے۔پیمرا کو اس پر حکمت عملی بنانی چاہئے اور انڈین پالیسی پر کام کرنے والے اینکرز کا محاسبہ کرنا چاہئے اور لیڈروں کو بھی ایک ضابطہ اخلاق طے کرنا چاہئے کہ ٹی وی پر ملکی نمائندہ ہوتے ہوئے منصب مرتبے اور معیار کے تقاضے سامنے رکھ کر ثابت کرنا چاہئے۔ ذاتیات کی بجائے نظریات پربحث ہونی چاہئے، پارٹی منشور میں بحث ہونی چاہئے، پیمرا کو دنیا کے مہذب ممالک کی طرح علاقائی معاملات کو لوکل نیوز اور ملکی معاملات کی ملکی نیوز پر نشر کرنا چاہئے۔ ہماری لوکل نیوز بھی انٹرنیشنل کے ساتھ سنائی دکھائی جاتی ہیں اور خاص کر منفی، چوری قتل وغیرہ جیسی خبروں کو عالمی نیوز کے ساتھ پیش ہونا ملکی بدنامی ہے۔ اسی وجہ سے آج تارکین وطن پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے اور نہ پاکستان کی اوورسیز کمیونٹی کی نوجوان نسل پاکستان کا رُخ کرنا چاہتی ہے۔ یہ لوگ انہی جاہل اینکروں کی وجہ سے مایوس ہیں۔ ایشیاء کے باقی ممالک میں اس سے زیادہ پرابلم ہیں مگر وہ بریکنگ نیوز کی زینت نہیں بناتے۔ اس واویلے کا انٹرنیشنل دنیا کے سامنے کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا الٹا بے حسی بدنامی اور مایوسی بڑھتی ہے۔ ادارہ اطلاعات و نشریات کو ایک سسٹم رائج کرنا چاہئے اگر اس آزادی رائے کے نام پر دشمن سازشوں کی روک تھام نہ کی گئی تو پاکستان سیاسی لحاظ سے مذاق اور معاشی لحاظ سے اپاہج بن جائے گا۔ ہم ٹی وی اینکروں کا طریقہ واردات دیکھ کر شرم محسوس کرتے ہیں اور عالمی دنیا کے سامنے سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کنٹرول وقت کی ضرورت ہے۔ راجہ امجد


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved