اگر میں ویانا میں انتخابی مہم منعقد کرتا تو کیا مجھے جیل میں بھیج دیا جاتا : کارل بلٹ
  17  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

سٹاک ہوم (روزنامہ اوصاف) سویڈن کے سابق وزیر اعظم اور یورپی خارجہ تعلقات کونسل کے رکن کارل بلٹ نے کہا ہے کہ اگر وہ ویانا میں سویڈن کے باشندوں کے لیے انتخابی مہم منعقد کرتے تو کیا انہیں جیل میں بھیج دیا جاتا ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے ہالینڈ ، جرمنی اور آسٹریا کے موقف پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سویڈن کے انتخابات کے دوران بیرون ملک انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔ دیگر ممالک کے سیاستدان بھی سویڈن میں انتخابی مہم منعقد کرتے ہیں۔ انھوں نے خبرادار کیا کہ ہالینڈ ، جرمنی اور آسٹریا کا موقف آزادی تحریر وتقریر کے لحاظ سے سنگین مسائل پیدا کرئے گا۔پرتگال کے سابق یورپی یونین کے وزیر برونو ماکیس نے بھی کارل بلڈٹ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی تحریر وتقریر پر پابندی کا یورپی یونین کیطرف سے خاموش تماشا دیکھنا قابل افسوس ہے۔واضح رہے کہ بعض یورپی ممالک نے ترکی میں16 اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم کے بارے میں بیرون ملک بسنے والے ترک باشندوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ترک وزراء کی میٹنگ پر پابندی لگا ئی تھی جس کی وجہ سے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان بحران پیدا ہو گیا تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved