لگتاہے عالمی تنظیموں نے مسئلہ کشمیرکوبالائے طاق رکھ دیا،لارڈنذیراحمد
  17  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
لند ن ( اوصاف نیوز )برطانو ی ہا ئوس آف کے ممبر لارڈ نذیر احمد نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹیرس کے نام اپنے ایک خط میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی تنظیموں نے کشمیر کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے سب سے پرانے حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے جہاں شرح اموات انتہائی بلند ہے اور دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے مداخلت کی کمی اور مقامی و قومی بدانتظامی کے باعث یہ مسئلہ خاصا بگڑ چکا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ اقوام متحدہ نے حق خودارادیت کا حل پیش کیا لیکن اس سفارتی حل پر کوئی پیشرفت نہیں ہو پائی۔ انہوں نے بتایا کہ 2016 میں سویلین اموات شدید رہی ہیں اور عوامی خواہشات کو کچلنے کے لئے ظالمانہ قوانین نافذ رہے ہیں۔صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ لوگ آن لائن یا گرائونڈ زیرو پر بھی احتجاج نہیں کر سکتے۔ آن لائن احتجاج کرنے والوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ استعمال کیا جاتا ہے اور کشمیر میں احتجاج کرنے والے شہریوں کو زخمی یا قتل کرنے کے لئے ہتھیار استعمال کئے جاتے ہیں جو بین الاقوامی معیارات کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد سیاسی قیدی بنے ہوئے ہیں۔ سویلین آبادی شدید صدمے کی کیفیت سے دوچار ہے اور ایک کھلی جیل میں بند ہے۔ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ ادھر اقوام متحدہ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بحث کا تبادلہ چل رہا ہے اور ادھر کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق فراموش کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر یا انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے منافی ہے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے کہ ان کے حق خودارادیت کی پاسداری ہو سکے۔ خط میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی ناکامیوں اور نامعقول طرزعمل کے باعث اس کی افواج اب بلاضرورت بچوں کی زندگیاں ختم کر رہی ہیں۔ ایک پندرہ سالہ احتجاجی بچے کو گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا۔ گزشتہ روز ایک چھوٹی سی بچی کنیزہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی اور فیصل احمد کو گولیوں کے شدید زخم آئے۔ یہ بچے معصوم شہری ہیں جو بین الاقوامی نظاموں کی ہولناک ناکامی کے باعث اپنی زندگیاں کھو چکے ہیں۔ یہ بچوں کے حقوق کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ اپنے خط میں لارڈ نذیر احمد نے چار نکات پیش کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی کہ وہ ان پر فوری غور کریں۔ ان کا پہلا نکتہ تھا کہ سیکرٹری جنرل بھارت کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ اور بچوں کے حقوق کے کنونشن کے تحت اس کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔ دوسرا نکتہ یہ تھاکہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے شہری بھارتی حکام کی طرف سے کسی کارروائی کا سامنا کئے بغیر یو این ایچ آر سی کے اپنے طریقہ کار کے تحت معاوضہ حاصل کر سکیں۔ تیسرے نکتے میں انہوں نے بتایا کہ یو این ایچ آر سی نے ایک بیان جاری کیا جس میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کے ساتھ کہا گیا کہ یہ تحقیقات دور سے بھی کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل سے اس تحقیقات کی موجودہ صورتحال کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ ان کا چوتھا نکتہ یہ تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل اس معاملے پر غور کرے کیونکہ یہاں بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے جس پر جنگی جرائم کی تحقیقات ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اقوام متحدہ نے فوری اقدامات نہ کئے تو بھارت اسی طرح کم سن کشمیریوں کی جانیں لیتا رہے گا۔ آخر میں انہوں نے سیکرٹری جنرل سے یہ استفسار بھی کیا کہ کیا وہ ان معصوم جانوں کا ضیاع روکنے کے لئے کوئی فوری اقدام کریں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved