گلگت بلتستان کوپانچواں صوبہ بنانے کی غلطی نہ کی جائے،تحریک حق خودارادیت
  17  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
بریڈ فورڈ(اعجاز فضل) گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہیں وہاں کے عوام کو بھی تمام سیاسی و جمہوری حقوق دئیے جائیں مگر پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی غلطی نہ کی جائے۔ اس سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر نقصان ہوگا اور کشمیری کمیونٹی بھی پاکستان سے متنفر ہوگی۔ آزاد کشمیر میں ایکٹ 72ء میں ترامیم کرکے بیس کیمپ کی حکومت کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کرکے ہندوستانی پروپیگنڈے کا ازالہ ہوسکے جس کیلئے بیرون ملک بسنے والے کشمیری اپنی منتخب قیادت اور ریاست کی ہر اکائی کے لیڈروں کی ہر سطح پر معاونت کریں گے۔ کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل گرفتاریوں اور ظلم و تشدد بند کروانے کیلئے 17مارچ سے لیکر 29مارچ تک برطانیہ کے اہم شہروں اور برطانوی و یورپی پارلیمنٹ میں بھی تقریبات منعقد کرنے کا فیصلہ۔ امجد بشیر ایم ای پی، افضل خان ایم ای پی جولی وارڈ ایم ای پی، یاسمین قریشی ایم پی، ڈیوڈ نٹال ایم پی، انتھیا میکنٹائر ایم ای پی اور سٹیورٹ اینڈریو ایم پی کے علاوہ کونسلر عاصم رشید آف راچڈیل، سابق لارڈ میئر شفیلڈ راجہ قربان حسین، لیڈز کے کونسلر انصر خان، کونسلر حلیم خالد برکٹسو، شمیم محمود آف جنت الفردوس، کونسلر نسیم ایوب لیوٹن کونسلر عشر ناز، ساہرہ خان لندن اور حنا ملک کے علاوہ ڈاکٹر صبور جاوید نے ان تقریبات کو کامیاب کروانے کیلئے بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کے ایک خصوصی مشاورتی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت تحریک کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کی جبکہ اس موقع پر سردار عبدالرحمان خان سیکرٹری جنرل محمد اعظم، برطانیہ کی چیئرپرسن یاسمین ڈار، انفارمیشن سیکرٹری یاسمین عالم، ممتاز اینکر پرسن اور کشمیری دانشور ثمینہ خان کونسلر عاصم رشید، محمد بوٹا ہیری اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کرکے اگلے پروگراموں کی تفصیلات پر بحث کرکے چیئرمین راجہ نجابت حسین اور سردار عبدالرحمان خان کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ ملک بھر میں دیگر جماعتوں اور تنظیموں سے رابطے کرکے مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر برطانیہ اور یورپ میں سرگرمیوں کو مربوط کرنے کیلئے ملاقاتیں کریں گے جبکہ ثمینہ خان، کونسلر یاسمین ڈار اور یاسمین عالم خواتین گروپوں سے رابطے قائم کریں گی تاکہ ممبران پارلیمنٹ کی موجودگی میں ہونے والی تقریبات میں خواتین اور نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved