برطانوی معاشرے میں ایشیائی کمیونٹی کاکرداراہم،جائزمقام دینگے،جیریمی کوربن
  17  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
لندن(سٹاف رپورٹر)برطانیہ دنیا کا سب سے اہم کثیر الثقافتی ملک ہے جہاں ہر رنگ نسل قوم اور مذہب کے لوگوں کو زندگی گذارنے کا ایک جیسا حق حاصل ہے، لیبر پارٹی ناصرف اس حقیقت پر فخر کرتی ہے بلکہ اپنی حکومت کے دوران ان حقوق کا بھرپور خیال بھی رکھتی ہے ان خیالات کا اظہار برطانوی حزب اختلاف کے لیڈرجیریمی کوربن نے مختلف امیگرنٹس ممالک کے صحافیوں سے خصوصی نشست میں کیا۔ تقریب کی میزبانی برٹش مسلم فرینڈز آف لیبر کے چیئرمین چوہدری شوکت علی نے کی۔ لیبر رہنما جیرمی کوربن نے کہا کہ انکی پارٹی میں بلیک ایتھنک مائناریٹی سے سب سے زیادہ ممبران برطانوی پارلیمان کا حصہ ہیں جس پر پارٹی کو فخر ہے انکا کہنا تھا کہ برطانوی معاشرہ میں ایشیائی کمیونٹی کا کردار بھی اہم ہے انہوں نے برطانوی معاشرہ اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے میں ایتھنک کمیونٹی خاص طور پر ایشین کمیونٹی کے گرانقدر کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے پارٹی ایتھنک کمیونٹی کو پارٹی اور ملکی معاشرے میں جائز مقام دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہے گی۔ پارلیمنٹ میں اپنے دفتر میں مختلف کمیونٹیز کے لئے میڈیا نیٹ ورکنگ کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھ کر پارٹی کی قیادت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ برطانیہ کثیر الجہتی اور کثیر النسل معاشرہ ہے جہاں تمام کمیونٹیز برطانیہ کا ضروری حصہ ہیں جیرمی کوربن نے شرکاء سے تجاویز مانگیں کہ لیبر پارٹی کو زیادہ نمائندہ اور خیال رکھنے والی سیاسی تنظیم میں کس طرح تبدیل کیا جائے انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی سب کے لئے مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کے لئے مہم چلاتی رہی ہے۔ ہماری پارٹی تمام شعبوں میں ممکنہ حد تک اس بنیاد پر معاشرہ تعمیر کرنے کی خواہشمند ہے اس موقع پر دوسرے لیبر رہنمائوں نے اظہار خیال کیا جن میں کیتھ واز ایم پی' ڈان بٹلر ایم پی' ڈیانا ایبٹ ایم پی، ڈاکٹر روزینہ ایم پی، شبانہ محمود ایم پی و دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان رہنمائوں نے کہا کہ اس ماہ کے آخر میں آرٹیکل 50 کا محرک یورپین یونین سے نکلنے بارے قانون بنانا ایک تاریخی اقدام ہے اس ملک کے مستقبل کی تشکیل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس امر میں شک نہیں ہے کہ اگر غلط فیصلے کئے جاتے ہیں تو ہمیں اس کی قیمت کئی عشروں تک ادا کرنا ہوگی۔ اس لئے اب برطانیہ کو پہلے سے زیادہ سب کی شمولیت کی حکومت کی ضرورت ہے جو ان کی بات سن کر اقدامات کرے تاہم اس امر کی علامات ہیں کہ ہماری حکومت اپنے آپ میں مگن ہے۔ اسے دوسروں کی آراء کی پرواہ نہیں وہ ہماری معیشت ' ہمارے لوگوں کے حقوق اور اس ملک کے مستقبل کے بارے میں مطمئن نظر آتی ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved