مسلم ایڈکی ٹیمیں صومالیہ کے قحط زدہ علاقوں میں امدادکیلئے پہنچ گئیں
  19  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
لندن( اوصا ف نیو ز )مسلم ایڈ قحط، بھوک اور ذرائع معاش سے محرومی کا شکار مشرقی افریقہ میں تباہ کن خشک سالی کے جواب میں انسانی فلاحی عملی منصوبے پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ گزشتہ روز صومالیہ پہنچنے والے مسلم ایڈ کے سی ای او جہانگیر ملک، او بی ای نے کہا ہے کہ صومالیہ کے لوگ گزشتہ تین دہائیوں سے قدرتی اور انسانی آفات کے ہاتھوں شدید کرب اور تکلیف میں مبتلا ہیں اور انتہائی کٹھن حالات میں بھی وہ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ اس وقت مائیں اور بچے ایک بار پھر بے یقینی کا شکار حالات میں تحمل کے ساتھ اچھے دنوں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ جہانگیر ملک نے پانچ سال پہلے صومالیہ کا دورہ کیا تھا جب یہ ملک شدید خشک سالی کا شکار تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلی بار میں خراب سکیورٹی حالات کے باعث موغادیشو نہیں جا پایا تھا۔ اس بار پورے ملک میں مسلم ایڈ کی ٹیمیں موجود ہیں اور ہمیں بیدوا اور کسمایو جیسے مقامات پر حالات کی شدت کو دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ صومالیہ کے بچوں کی منجمد خالی آنکھوں میں یہی سوال ہے کہ وہ اس کرب سے کیوں گزر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صومالیہ کی پچاس فیصد آبادی یعنی تقریباً ساٹھ لاکھ افراد فصلیں نہ ہونے کے باعث بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں اور خوراکی سلامتی 2017 کے وسط تک مزید خرابی کی طرف جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مزید ستائیس لاکھ افراد کو صاف پانی اور سینی ٹیشن تک رسائی میسر نہیں جس کی وجہ سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور دورافتادہ علاقوں میں جہاں حفظان صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، شدید قسم کے مسائل دوچار ہیں۔ علاقے میں موجود مسلم ایڈ کی ٹیموں کے مطابق پانی، سینی ٹیشن، لائیوسٹاک اور حفظان صحت متاثرہ افراد کی انتہائی ناگزیر ضروریات میں شامل ہیں۔ جہانگیر ملک ان دنوں مسلم ایڈ برطانیہ اور مسلم ایڈ سویڈن کے ایک وفد کی قیادت کر رہے ہیں جو مسلم ایڈ صومالیہ کے فیلڈ سٹاف کے ساتھ مل بیدوا اور کسمایو کے بری طرح متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہا ہے۔ یہ گروپ تقریباً دو لاکھ افراد کے لئے ہنگامی امداد کے منصوبے تیار کرے گا۔ مسلم ایڈ کے فوری تیاری کے منصوبوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی فراہم کرنے کے لئے کنوئوں کی کھدائی، تین سو خاندانوں کو لائیوسٹاک کی فراہمی اور موبائل کلینک کے ذریعے ان لوگوں کو حفظان صحت کی سہولیات کی فراہمی ہے جو خشک سالی سے متاثرہ دورافتادہ علاقوں میں مقیم ہیں۔ مسلم ایڈ کی بنیاد 1985 میں مشرقی ایشیا میں آنے والے قحط کے جواب میں رکھی گئی۔ اب تک مسلم ایڈ خطے میں اپنی مستقل موجودگی کے ساتھ ساتھ فیلڈ دفاتر قائم کر چکا ہے اور ضرورت مند افراد کو جاری بنیاد پر فلاحی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ صرف 2016 میں صومالیہ میں مسلم ایڈ کی سرگرمیوں سے سات لاکھ چالیس ہزار افراد حفظان صحت، غذائیت، ہنگامی امداد، ذرائع معاش اور صنفی تشدد کے متاثرین کو تحفظ و معاونت کی فراہمی جیسی سرگرمیوں سے مستفید ہوئے۔ فیلڈ سٹاف متاثرہ افراد کی ضروریات کی نشاندہی اور انہیں موزوں امداد کی فراہمی کے لئے مسلسل بنیاد پر موجودہ بحران کی نگرانی کر رہا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved