پانامہ کیس،نوازشریف کے بچنے یاپھنسنے پرکروڑوں کی شرطیں
  19  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

سٹوک آن ٹرینٹ (پنوں خان منہاس)نواز شریف کے پھنس جانے یا بچ جانے پر کروڑوں کی شرطیںلگ گئیں۔کیا 23مار چ کونواز شریف کی آخری سلامی ہو گی؟۔ غیرقانونی طور پر دبا ئی جانے والی ماڈل ٹائون قتل کیس کی فائل بھی سامنے لائی جارہی ہے۔عبوری حکومت کی نگرانی میں انتخاب کرانے کے آرٹیکل 224 کی شق نمبرایک کو ختم کرانے کانواز شریف کو زرادری کا مشورہ ۔ سابق صدرآصف علی زرداری کا منہ بولا بھائی اویس مظفر ٹپی دوبئی سے امریکیوں کو ویزے جاری کرواتا رہا۔جن امریکیوں کواسلام آباد میں 372کے قریب گھر دلوائے گئے کیاوہ لوگ حسین احمد حقانی یا مظفر ٹپی کو پاکستان کے حوالے کریں گے؟ ۔ نواز شریف کا الیکشن کمیشن پر مکمل کنٹرول ہے اور اسی چال سے عمران خان کے خلاف نااہلی کی درخوست مسترد کر دی گئی کہ اگر میاں صاحب کا معاملہ سپریم کورٹ خود حل کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن پر چھوڑدیتاہے تو میاں صاحب کا معاملہ بھی گول مول کر دیا جائے۔ ڈان لیکس میں طارق فاطمی نے قربانی کا بکرا بننے سے انکار کر دیا۔یہ ہیں پاکستان میں موجودہ سیاسی بے یقینی پرپاکستان ٹاک شو (سیاسی تجزیات )کے ٹاپ ریٹنگ تجزیے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ پانامہ کیس میں کچھ بھی نہیں ہوگا وہ اس بات پر بھی غور کریں کہ کیا معزز جج صاحبان نے سوچے سمجھے بغیر یہ ریمارکس دیئے ہیں کہ : فیصلے کا اثر آئندہ ہونے والی نسلوں تک رہے گا؟۔اگر کچھ نہیں ہونا ہے تو پھر ان'' ریمارکس'' کے معنی قانون کی کس کتاب میں تلاش کرنے ہوں گے؟۔سیاسی تجزیہ نگاروں کی اکثریت کے اندازوں سے یہی لگتا ہے کہ وزیر اعظم کی پریشانیوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے۔پہلے پانامہ کیس پھر انگریزی اخبار ڈان میں فوج کے خلاف جھوٹی خبر شائع کرانے والا ''ڈان لیکس '' کا معاملہ اور اب ماڈل ٹائون قتل کیس جس میں پولیس فائرنگ سے عوامی تحریک کی دو عورتوں سمیت 14لوگ جاں بحق ہو گئے تھے۔ایک معروف تجزیہ نگار کے مطابق حکومت گزشتہ تین سالوںسے قتل کے اس کیس کی فائل کو غیر قانونی طور پر دبائے بیٹھی تھی اور اب کسی بھی سیشن جج یا مجسٹریٹ کے حکم پر اُس فائل کو سامنے لایا جا سکتا ہے۔اب یہ سوال باقی نہیں رہتاکہ اس فائل کو کون سامنے لائے گا ؟۔کیوں کہ سپریم کورٹ ہر معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لی رہی ہے کہ سیاسی بے یقینی سے ریاست خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ذُوالفقار علی بھٹوکے دور میں بھی مشہور قانون دان احمد رضا قصوری کے والد نواب احمد خان کا قتل ہوا تھا اور احمد رضا قصوری نے اس قتل کی '' ایف آئی آر'' ذُوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج کروائی تھی لیکن تھانیدار نے صرف کاغذی کاروائی کر کے رپورٹ دبا دی تھی۔قتل کے تین سال بھٹو جب جنرل ضیا ء الحق نے بھٹو کا تختہ اُلٹ دیا تو احمد رضا قصوری نے وہ رپورٹ باہر نکلواکر بھٹو کو ایک متنازعہ عدالتی فیصلہ سے موت کی سزا دلوائی تھی۔ نواز شریف پانامہ کیس سے بچ جاتے ہیں یا ناہل قرار دیے جاتے ہیں اس پر برطانیہ کے مختلف شہروں میں آباد پاکستانیوں نے ہزاروں پائونڈز (کروڑوں روپے) کی شرطیں لگا رکھی ہیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
33%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved