حکومت عمرہ پرجانے والوں سے زیادتیوں کانوٹس لے،قاری عبدالرشید
  19  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

ٹیکسلا/اولڈھم (پ ر )پاکستان سے عمرہ کو جانے والوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں ناقابل برداشت اور فوری اصلاح طلب ہیں.ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے برطانیہ کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات مولانا قاری عبدالرشید نے عمرہ سے واپسی پر میڈیا کے نمائندوں کو اپنی فیملی اور دوسرے معتمرین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بتاتے ہوئے کیا.قاری عبدالرشید نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں وزرا صاحبان پاکستان سے عمرہ پر جانے والوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کا نوٹس لیں.معتمرین سے عمرہ پیکیج کے نام پر منہ مانگی رقم لیکر بھی ائر لائن سے ٹرانسپورٹ و ہوٹل اور وہاں پر موجود حج و عمرہ پر بھیجنے والوں کے ایجنٹوں کے رویوں کی وجہ سے اللہ کے مہمانوں کو جن تکالیف سے دو چار ہونا پڑتا ہے وہ انتہائی دکھ بھرے حالات و واقعات ہیں.سستے ترین دنوں میں بھی مہنگے عمرہ پیکیج دینے والوں کا محاسبہ کرنا حکومت کی ذمے داری ہے.انھوں نے کہا کہ چونکہ حال ہی میں میری اپنی فیملی کو اس پریشانی سے دوچار ہونا پڑا ہے اس لیئے ان تمام زیادتیوں کا خود میں چشم دید گواہ ہوں اور جس ایجنسی اور ٹریول ایجنٹ سے ویزوں کے حصول اور ہوٹل و ٹرانسپورٹ کے لیئے معاملہ کیا ہے اس کی تمام تر تفصیلات میرے پاس موجود و محفوظ ہیں اور ضرورت پڑنے پر وزارت مذہبی امور اور وزارت داخلہ کو دی جاسکتی ہیں.سردست اتنا بتایا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت پاکستان کے ریکارڈر میں، فئرڈیل، نام کی کوئی کمپنی یا ایجنسی رجسٹر ہے تو اس سے ووچر نمبر 133اور ووچر نمبر 137 کی انکوائری کرائے.خاص کر وو چر نمبر 133کا معاملہ پوچھا جائے کہ ان دو آدمیوں سے رقم وصول کر کے ان کو جدہ سے مکہ اور مکہ سے مدینہ اور مکہ سے جدہ ٹرانسپورٹ اور رہائش کیوں نہیں دی گئی ؟ان لوگوں کو تکالیف سے دوچار کیوں کیا گیا ؟جعلی ووچر پر جعلی ہوٹلوں کے نام کیوں لکھے گئے؟ پچاس ہزار کی خطیر رقم ان سے رہائش و ٹرانسپورٹ کی وصول کر کے آگے انتظامات کیوں نہ کیئے گئے؟ووچر تبدیل کیوں گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی ان دو وزارتوں نے کوئی نوٹس نہ لیا تو پھر ان حقائق کو پریس کانفرنس کے ذریعہ سامنے لایا جائیگا اور برطانیہ کی حکومت کے ساتھ بھی برطانوی شہری کی حیثیت اس معاملے کو شئرکیا جائیگا تا کہ اللہ تعالی کے مہمانوں کو لوٹنے اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو اس ظلم سے روکا جا سکے.دور اور گندی رہائشیں.تھکا دینے والی ان ڈائریکٹ سستی ائر لائنیں.اور مکہ و مدینہ میں بداخلاق قسم کے ایجنٹوں کے حوالے کر دینا.اور معتمرین کی کسی بھی قسم کی دیکھ بھال نہ کرنا جیسے سنگین مسائل سے عمرہ کو جانے والی اکثریت کو سامنا کرنا پڑتا ہے.قاری عبدالرشید نے وفاقی وزارت مذہبی امور سے مطالبہ کیا کہ جس طرح اس نے حج کے امور کو کنٹرول کیا ہے وہ عمرہ کے معاملات بھی سرکاری طور پر نمٹائے اور ان ٹور آپریٹرز سے عمرہ کے معاملات واپس لے لیئے جائیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved