پاک برطانیہ تجارت اوردیگرشعبوں میں تعاون کیلئے کوششیں جاری رکھوں گا،ایم ای پی امجدبشیر
  19  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
بریڈ فورڈ(اعجاز فضل) عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم سے آگاہ کرنے اور برٹش کشمیریوں کی نمائندگی کرنے یارکشائر سے کنزرویٹو پارٹی کے ممبر یورپی پارلیمنٹ امجد بشیر جنیوا روانہ ہوگئے' دو روزہ دورے میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ اور مختلف عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے اور یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق اور فارن آفیئرز کی کمیٹی کو واپس پھر رپورٹ کریں گے جبکہ اپریل کے دوسرے ہفتے میں جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت یورپ کی دعوت پر آزاد کشمیر اور پاکستان کا دورہ بھی کریں گے اور آئندہ تحریک کی عالمی کانفرنس میں یورپی ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر معاونت کریں گے۔ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کا باہمی مسئلہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے تحریک حق خود ارادیت کے ساتھ مل کر ہر عالمی فورم پر اٹھائیں گے۔ بھارت کی طرف سے فارن افیئرز کمیٹی کے سرکاری دورے میں ویزہ نہ دینا بھارت کی اخلاقی پستی اور حقائق کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے مگر مسئلہ کشمیر کو اس کے عوام کی مرضی کے بغیر حل نہیں کیا جاسکتا اور کشمیر دوست ارکان پارلیمنٹ ہر ایوان اور سیاسی جماعت میں موجود ہیں برطانوی حکومت کا بھی مسئلہ کشمیر پر خصوصی کردار ہے اس لئے برٹش کشمیری یہاں کے سیاسی نظام میں شامل ہو کر ہر کمیونٹی اور مکتب فکر کو تحریک کا حصہ بنائیں۔ امجد بشیر ایم ای پی نے کہا کہ وہ جہاں سفارتی اور سیاسی محاذ پر پاکستان اور کشمیر کی حمایت جاری رکھیں گے وہیں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت اور دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ امجد بشیر ایم ای پی یہاں جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کے چیئرمین راجہ نجابت حسین' سرپرست سردار عبدالرحمن خان' کشمیر کونسل یورپ کے سینئر رہنما سردار صدیق خان' مسلم کانفرنس برطانیہ کے سابق سیکرٹری محمد اسلم چوہدری اور تحریک کے پروفیشنل ونگ کی چیئرپرسن ڈاکٹر تسلیم طارق شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر تحریکی رہنمائوں اور سردار صدیق خان نے امجد بشیر کی حالیہ کاوشوں اور بھارتی حکومت کی طرف سے ان کے دورہ بھارت پر پابندی کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت گزشتہ ستر سالوں میں پانچ لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کرنے' ہزاروں خواتین کی بے حرمتی اور لاکھوں نوجوانوں کو زخمی کرنے ' پوری کشمیری لیڈر شپ کو حراساں کرنے اور مسلسل گرفتاریوں پر اگر کشمیریوں کی تحریک کو ختم نہیں کرسکا۔ تو یورپ کے حق پرست ممبران پارلیمنٹ کی آواز کو بھی دبا نہیں سکے گا بلکہ اسے عالمی برادری اور کشمیری عوام کی بات مان کر جہاں کشمیری قوم کو آزادی دینی پڑے گی وہیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی بند کرنا پڑے گا تحریک کے چیئرمین راجہ نجابت حسین ین اس موقع پر پوری کشمیری قوم کی طرف سے امجد بشیر ایم ای پی کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا کہ تحریکی عہدیدار مسلسل لابی کرتے ہوئے ہر ہفتہ برطانوی سیاسی رہنمائوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے کرکے اپنے مظلوم بہن بھائیوں کی آواز بن کر یورپ کے ہر ایوان کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک جہاں برطانیہ او ریورپ میں مسئلہ کشمیر کو سفارتی محاذ پر اجاگر کرتی رہے گی اسی طرف آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو بھی رمضان سے قبل برطانیہ اور یورپ میں بلائیں گے تاکہ براہ راست متاثر شدہ کشمیری لیڈر شپ بیرون ملک بھارتی عزائم سے سیاستدانوں میڈیا اور فیصلہ ساز اداروں کو کشمیریوں کا ہمنوا بنایا جاسکے۔ سردار عبدالرحمن خان نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے جس تحریک کا آغاز 1931 سے کیا تھا اس مشن کو ریاست کی آزادی تک جاری رکھیں گے اور بیرون ملک نوجوانوں' خواتین اور پروفیشنل کشمیریوں و پاکستانیوں کے علاوہ مقامی عوام کو مسئلہ کشمیر کو اس کے حقیقی تناظر میں پیش کرتے رہیں گے۔ برسلز سے آئے سردار صدیق خان نے کہا کہ وہ گزشتہ بیس سال سے راجہ نجابت حسین اور سید علی رضا کی ٹیموں سے مل کر یورپی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور آئندہ بھی تحریک حق خود ارادیت یورپ اور کشمیر کونسل یورپ کی تمام سرگرمیوں کو یورپی پارلیمنٹ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک میں بھی معاونت مہیا کریں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved