پاکستان میںعدالتی نظام اوردیگراداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے
  19  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

لوٹن (تجزیہ:شیراز خان) دو سال پہلے جب پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا تو فوی عدالتوں پر مجبوری کے تحت رضامندی ظاہر کی گئی تھی اور حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ آنے والے دو سالوں میں جوڈیشل ریفارمز یعنی عدالتی اصلاحات کا نظام متعارف کرایا جائے گا اور پھر دوبارہ فوجی عدالتوں یا ملٹری کورٹس کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن دو سال میں حکومت نے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی اور آج ہم دوبارہ دو سال کے بعد پھر اسی جگہ پر کھڑے ہیں کہ دوبارہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی گئی پیپلز پارٹی' تحریک انصاف اور حکومت تینوں نے اس کو جمہوریت کا حسن قرار دیا ہے جمہوریت کے دعویداروں کو کون بتائے کہ جمہوری نظام میں فوجی عدالتیں نہیں ہوا کرتیں ہمارا عدالتی نظام گلا سڑا ہے اور عام عوام کو تو اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے لیکن بڑے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ناممکن ہے حکومت صرف لولی پاپ دے رہی ہے اور پیپلز پارٹی جو تھوڑی بہت مخالفت کررہی تھی اس کا مطلب صرف یہی تھا کہ حکومت سے اپنے لئے کچھ حاصل کرسکے جس پارلیمنٹ اور جمہوریت کا ہمارے پارلیمنٹرین دم بھرتے ہیں مراعات اور تنخواہیں حاصل کرتے ہیں تقریباً تین سو پچاس ممبران قومی اسمبلی میں 84 ممبر قومی اسمبلی بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرتے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور عمران خان کب آخری با رپاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں گئے تھے وزیراعظم قومی اسمبلی میں اجلاس کے سوالوں کے جوابات خود دیتا ہے حکومت کی پالیسی وضع کرتا ہے ہمارے ملک میں جمہوریت نہیں بادشاہی نظام قائم ہے اور نسل در نسل منتقل ہورہا ہے عدالتی نظام ہو یا دوسرے ادارے سب میں اصلاحات کی ضرورت ہے ہمارے ہاں حکمران بزنس کرتے ہیں اور سیاست میں اس لئے آتے ہیں کہ بزنس میں فائدے حاصل کرسکیں۔ اس بوسیدہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved