اسلام میں انتہاپسندی کی گنجائش نہیں مسلمان دہشت گردنہیں ہوسکتا،پیرعرفان مشہدی
  19  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

نوٹنگھم (پ ر) اسلام دین اعتدال ہے اس میں انتہا پسندی کی گنجائش نہیں' مسلمان کبھی بھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا' مسلمان امت خیر کی طرف دعوت دینے کی وجہ سے تمام امتوں سے افضل قرار پائی۔ ان خیالات کا اظہار مناظر اسلام علامہ پیر محمد عرفان مشہدی نے اسلامک سنٹر نوٹنگھم میں سنی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ کانفرنس تحریک اہل سنت کے زیر اہتمام انعقاد پذیر ہوئی۔ خطیب اسلامک سنٹر معروف دینی سکالر علامہ محمد سجاد رضوی نے سنی کانفرنس کے انعقاد کی غرض و غائت بیان کی اور علماء کرام کوخوش آمدید کہتے ہوئے اتحاد اہل سنت کے لئے مقامی علماء کرام کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ تفصیلات کے مطابق نوٹنگھم کی سنی مساجد نے متحدہ پلیٹ فارم تحریک اہل سنت کا آغاز سنی کانفرنس کے انعقاد کے ساتھ کیا جس میں عوام نے بھرپور شرکت کرکے اسے عظیم کامیابی سے نوازا' بھرپور اجتماع عوام اور اہل سنت کے علاوہ مقامی مساجد کے آئمہ اور منتظمین نے بھی شرکت کی اور مزید مثبت سرگرمیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ کوونٹری سے علامہ نبیل افضل عرفانی نے انگلش خطاب کے ذریعے عقائد و اعمال اسلامیہ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروگرام میں مولانا حافظ محمد عدیل مسجد کریمیہ' علامہ محمد قاسم رضوی منظر الاسلام نوٹنگھم' علامہ قاری عبدالحئی شامی مسجد کریمیہ' علامہ قاری محمد اشرف چشتی کریمہ انسٹیٹیوٹ' علامہ پیر زادہ محمد یوسف لینٹن مسلم سنٹر' علامہ امجد صدیقی جامعہ سلطانیہ' علامہ عرفان مدنی فیضا مدینہ' علامہ یاسر ایوب بیٹن مسلم سنٹر' قاری عارف چشتی جامعہ فاطمیہ' حافظ ضیاء الحق فیصان مدینہ' حافظ قاری غلام شبیر حسین جامعہ سلطانیہ' حافظ قاری عبدالرحمن اسلامک سنٹر' ملک نعیم شہباز انجمن طلبہ اسلام' حاجی اورنگزیب جامعہ سلطانیہ' محمد آصف و ممبران کمیٹی جامعہ فاطمیہ' حاجی منیر دین بٹ جامع مسجد منظر الاسلام نوٹنگھم کے علاوہ ڈربی سے علامہ پیر ذوالکفل حسین' استاذ قمر مدنی مسجد رضا' رادھرم اور دیگر بہت سے حفاظ و قرآء نے شرکت کی۔ مولانا قاری صابر حسین اور علامہ محمد قاسم رضوی نے اپنے خطابات میں جماعت اہل سنت نوٹنگھم کی خدمات تفصیل سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامک سنٹر نوٹنگھم' اہل سنت کی تمام سرگرمیون کا مرکز ہے اور ہم اس کی ترقی کے لئے مزید محنت کریں گے تاکہ دینی تشخص برقرار رہے اور نوٹنگھم کے مسلمانوں کا اجتماعی وقار بلند سے بلند تر ہو۔ علماء کرام نے اپنے خطابات میں عقائد اہل سنت کے ساتھ ساتھ اعمال حسنہ پر بھی زور دیا اور تشدد پسندی نتہا پسندی اور دہشت گردی کی شدید مذمت کی ان کا کہنا تھا کہ اپنے اسلاف کے راستے پر چل کر ہی ہم فلاح پاسکتے ہیں اور معتدل رویہ ہی اسلامی نظام کی حقیقی پہچان ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved