مسئلہ کشمیرکامنصفانہ حل کے ایچ خورشیدکے پروگرام پرعملدرآمدسے ممکن ہے،ڈاکٹرمسفر
  20  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
اولڈھم(فیاض بشیر) جموں کشمیر لبریشن لیگ برطانیہ کے صدر اور چیف آرگنائزر ڈاکٹر مسفر حسن ایک ہفتے کے دورہ آزاد کشمیر کے بعد برطانیہ واپس پہنچ گئے۔ آزاد کشمیر میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے جماعت کے بانی قائد کے ایچ خورشید کی برسی کے حوالے سے مختلف پروگراموں میں شرکت کی۔لبریشن لیگ کی تنظیم نو اور نوجوانوں کی نظریاتی تربیت کے حوالے سے جماعتی عہدیداران سے تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے مظفر آباد ضلع کے کارکنان کے ساتھ کے ایچ خورشید کی 29ویں برسی کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ مظفر آباد میں ڈاکٹر مسفر حسن سے ملاقات کرنے والوں میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری فرحت علی میر سابق سیکرٹری حکومت آزاد کشمیر شوکت دانشور اور سابق سیکرٹری حکومت آزاد کشمیر، اکرم سہیل شامل تھے۔ ان ملاقاتوں کے دوران مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور کشمیر میں جاری تحریک کی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو اور تبادلہ خیال ہوا۔ مظفر آباد کے معروف صحافی آصف رضا میر نے بھی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ڈاکٹر مسفر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مسفر حسن نے آصف رضا سے انکی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کی بلندی درجات کے لئے دعا کی۔ ڈاکٹر مسفر نے مظفر آباد کے معروف صحافی سلیم پروانہ سے ملاقات کی۔پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر مسفر حسن نے برطانیہ میں لبریشن لیگ اور دیگر جماعتوں کی جانب سے منعقدہ لابی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ بین الاقوامی دنیا آج بھی متفقہ طورپر ریاست جموں کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت نہ تو نعروں اور نہ ہی اخباری بیانات سے حاصل ہوسکتا ہے اس کے لئے ایک لائحہ عمل کی ضرورت جس کا طریق کار لبریشن لیگ کے بانی صدر کے ایچ خورشید نے 1962ء میں قوم کے سامنے پیش کردیا تھا۔ وہ طریقہ کار آج بھی اتنا مؤثر ہے جتنا 1962ء میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزرتے وقت نے ثابت کیا ہے کہ کے ایچ خورشید کا نظریہ جو کہ محمد علی جناح کی کشمیر پالیسی پر مبنی تھا اس کی افادیت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اگر حکومت پاکستان اس بات کو آج بھی مان لے تو پورے خطے میں امن و آشتی کا دور بحال ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر مسفر نے مظفر آباد کی معروف خاتون اور سوشل ورکر بیگم تنویر لطیف سے انکے گھر جاکر ملاقات کی اور ان سے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بیگم تنویر لطیف کی تعلیمی خدمات پر انہیںزبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اور انہیں خواتین میںجذبہ آزادی کے حوالے سے فعال کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ محترمہ تنویر لطیف نے اس پر تعاون کا یقین دلایا۔ ڈاکٹر مسفر حسن نے چہلہ بانڈی میں مہاجر کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں کے مکینوں کے مسائل سنے۔ اس ضمن میں وہاں کے مکینوں کی حالت زار اور مخدوش حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے آزاد کشمیر کے حکمرانوں کے طرز زندگی اور طور طریقوں کا موازنہ قربانی دینے والی رعایا کے حالات سے کرتے ہوئے کہا کہ قربانیاں دینے والے انتہائی نامساعد حالات کا شکار ہیں لیکن کسی حکومت نے ان کی حالت سدھارنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ گیارہ مارچ کی صبح ڈاکٹر مسفر نے مزار خورشید پر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد جلسہ عام میں شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل صرف خورشید کے دئے گئے پروگرام پر عملدرآمد سے ممکن ہے۔ جب تک ریاست جموں کشمیر کے عوام آزادانہ رائے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرلیتے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی وجہ سے دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مشکلات کا شکار ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ تمام فریق دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے مخلصانہ کوشش کریں۔ڈاکٹر مسفر نے جماعتی تنظیم سازی کے لئے آزاد کشمیر بھر میں مختلف کارکنوں اور عہدیداران کو ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved