مسئلہ کشمیرکاعلاقائی بنیادوں پرفیصلہ تباہ کن ہوگا،شبیراحمدشاہ
  20  مارچ‬‮  2017     |     یورپ
ہائی ویکمب (مسرت اقبال) فریڈم پارٹی کے نظر بند سربراہ شبیر احمد شاہ نے گلگت بلتستان معاملے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطہ جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کے پیش نظر اس طرح کا کوئی بھی اقدام سیاسی طور پر سود مند ثابت ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جہاں مسئلہ کشمیر سے متعلق یہ بات واضح ہے کہ اس کے سیاسی مستقبل سے متعلق فیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا وہی علاقائی بنیادوں پر اور جداجدا موقعوں پر کوئی سیاسی فیصلہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ شبیر احمد شاہ نے اپنے بیان میں لوگوں کے سیاسی مستقبل سے متعلق فیصلے کو قابل ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بلتستان اور گلگت کے عوام انضمام پاکستان میں یقین رکھتے ہیں تو ہم انہیں اس طرح کے اظہار سے نہیں روکیں گے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں لوگوں کے اظہار رائے کے احترام کی بات کی گئی ہے البتہ اس سلسلے میں انہیں عجلت سے کوئی فیصلہ لینے سے پہلے اس کے دوررس نتائج کا مطالعہ کرنا ہوگا اور ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کو اس طرح کے کسی فیصلے سے کوئی بہانہ ہاتھ نہ آئے۔ شبیر احمد شاہ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تقسیم ہند کے فارمولے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جموں کشمیر کے عوام کو برصغیر کے دو ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ انضمام یا مدغم ہونے کی بات کی گئی ہے اور گلگت بلتستان جموں وکشمیر کا ایک انمٹ حصہ ہونے کی بنیاد پر قراردادوں پر من و عن عمل کرنے کے لئے آزاد ہے البتہ اس سلسلے میں ایک اجتماعی اور محکم فیصلے کے حصول تک انہیں عجلت کے مظاہرے اور الگ راہ اختیار کرنے سے اجتناب و احتراز کرنا ہوگا۔ شبیر احمد شاہ نے اس سلسلے میں بھارتی موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کی سیاسی رائے پر حاوی ہونے کی ہرکوشش کو نامناسب سمجھتے ہیں وہ اپنا مستقبل تعین کرنے میں آزاد ہیں البتہ انہیں جموں و کشمیر کی وحدت کے پیش نظر تب تک کسی ایسے فیصلے پر عمل درآمد کو موخر رکھنا ہوگا جب تک جوں کشمیر کے سبھی خطوں کی سالمیت اور سیاسی مستقبل سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے اس سلسلے میں بھارت کے اپنائے گئے موقف کو بدنیتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چور مچائے شور کے مصداق وہ عوام یا کسی خطے کو اپنے سیاسی مستقبل سے متعلق ڈکٹیشن دینے کے بجائے اپنے زیر قبضہ ریاستی خطے میں زور زبردستی کی بنیاد پر کئے ئے قبضے کو جائز ٹھہرانے کی کوشش نہ کرے کہ اس کی حیثیت ایک قابض کی ہے اور قابض کو نہ حق حکمرانی حاصل ہے اور نہ لوگوں کے جذبات کی غلط ترجمانی کے لئے کوئی اختیار ہے۔ انہوں نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر کا ایک محسن وکیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وکیل کا کام ہے کہ وہ موکل کے کیس کو احسن طریقے سے پیش کرے اور اس سلسلے میں کوئی ایسا اقدام نہ اٹھائے جو موکل کے لئے نقصان دہ ثابت ہو۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے سلسلے میں پاکستان نے جو رول ادا کیا ہے وہ اسے جاری رکھے گا اور گلگت بلتستان کی آئینی اور سیاسی حیثیت کو تعین کرنے میں عجلت سے کام نہیں لے گا کہ یہ بھارت کے سیاسی اغراض کو دیکھتے ہوئے سود مند ثابت نہیں ہوگا اور بھارت کو جموں کشمیر میں خون خرابہ کرنے کے لئے موقع فراہم ہوگا۔ شبیر احمد شآہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اس سلسلے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اس بات پر غور کرے کہ کہیں اس سے مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت متاثر نہ ہو اور بھارت کو کوئی حیلہ یا بہانہ ہاتھ نہ آئے۔ شبیر احمد شاہ نے تحریک آزادی کے دیرینہ بہی خواہ پیوپلز لیگ اور الفتح کے بانی نزیر احمد وانی کی وفات پر گہرے رنج و دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے ایک خلا پیدا ہوا ہے ۔ انہوں نے مرحوم اور ان کے خاندان کی تحریک آزادی کے تئیں ان کی خدمات کے لئے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1976 میں ہجرت کرکے نہ صرف تحریک آزادی کی آبیاری کی بلکہ مہاجرت کی زندگی میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ مرحوم کو خراج پیش کرتے ہوئے شبیر احمد شاہ نے کہا کہ مرحوم کے والد بھی مہاجرت کی زندگی میں ہی فوت ہوئے۔ شبیر احمد شاہ نے ان کے برادر حاجی فاروق احمد اور ریاض احمد کو تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس خاندان نے تحریک آزادی کے لئے نہ صرف مصائب و مشکلات کا سامنا کیا بلکہ استقامت اور عزیمت کی راہ کا انتخاب کرکے ایک عظیم مثال پیش کی۔ اپنے بیان میں انہوں نے مرحوم کے ساتھ تحریکی سفر کے دوران میرے قریبی مراسم و تعلقات رہے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی تحریکی خدمات کے لئے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ادھر شبیر احمد شآہ کی ہدایت پر ایک وفد انجینئر فاروق احمد کی قیادت میں مرحوم کے آبائی گھر جا کر ان کے خاندان سے تعزیت کی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved