کینیڈا کاجاری کردہ100 کلو وزنی خالص سونے کا سکہ جرمنی کے میوزیم سے چوری ہوگیا
  27  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

برلن(روزنامہ اوصاف) کینیڈا کی جانب سے جاری کردہ 100 کلو وزنی خالص سونے کا سکہ جرمنی کے دارالحکومت برلن کے ایک میوزیم سے چوری ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کینیڈین سونے کا سکہ جس کا نام 'بگ میپل لیف' ہے اور اس پر برطانوی ملکہ الزبتھ دوئم کی تصویر موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ سکہ برلن کے بوڈ میوزیم سے پیر کے روز علی الصبح چوری کیا گیا۔میوزیم کے ترجمان مارکس فر کا کہنا ہے کہ 'نامعلوم چور یا چوروں نے سکہ چرالیا ہے اور اب یہ میوزیم میں موجود نہیں۔خیال رہے کہ یہ سکہ انتہائی خالص سونے سے تیار کیا گیا ہے جس کا وزن تقریبا 100 کلو اور اس کی قدر 10 لاکھ ڈالر ہے البتہ سونے کی مادی اعتبار سے اس کی قدر 40 لاکھ ڈالر تک بتائی جارہی ہے۔میوزیم کی ویب سائٹ پر بتایا گیا کہ مذکورہ سکہ 2007 میں رائل کینیڈین منٹ کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور اس میں استعمال ہونے والے انتہائی خالص سونے کی وجہ سے اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔سکے کا قطر 53 سینٹی میٹر جبکہ اس کی موٹائی 3 سینٹی میٹر ہے اور یہ سکہ دسمبر 2010 میں بوڈ میوزیم کے حوالے کیا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر سکہ چوروں کے ایک گروہ نے چرایا جنہوں نے سیڑھی لگاکر میوزیم کی کھڑکی توڑی اور اندر داخل ہوگئے۔پولیس ترجمان ونفریڈ وینزل کا کہنا ہے کہ 'اب تک کی معلومات کے مطابق ہمارا خیال ہے کہ چور یا چوروں کا گروہ پیچھے کی طرف سے میوزیم کی کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ 'میں صرف اتنا بتاسکتا ہوں کہ سکہ عمارت کے اندر خصوصی طور پر تیار کردہ بلٹ پروف شیشے کے اندر رکھا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ 'فی الحال عمارت کے اندر موجود سیکیورٹی اہلکاروں، الارم سسٹم اور سیکیورٹی انتظام کے حوالے سے تفصیلات ظاہر نہیں کی جاسکتیں۔خیال رہے کہ بوڈ میوزیم دنیا میں سکوں کا سب سے زیادہ مجموعہ رکھنے والے عجائب گھر میں سے ایک ہے اور یہاں تقریبا 5 لاکھ 40 ہزار نوادرات موجود ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved