برطانوی وزیر اعظم نے بریگزٹ کا عمل شروع کرنے کے خط پر دستخط کر دیئے
  29  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

لندن(روزنامہ اوصاف )برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے یورپی یونین کے نکلنے کا عمل شروع کرنے کے خط پر دستخط کر دیے جس کے بعد برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو جائے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم ٹریزا مے نے یورپی یونین کے نکلنے کا عمل شروع کرنے کے خط پر دستخط کر دیے ہیں۔لزبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کے تحت یہ آفیشل نوٹس یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو پہنچایا جائے گا۔دارالعوام میں وزیراعظم مے اپنے بیان میں ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ یہ وقت ملک میں یکجہتی کا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ جون میں منعقدہ ریفرینڈم میں اکثریت نے برطانیہ کے یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔وزیراعظم ٹریزا مے کا خط ڈونلڈ ٹسک کو برطانوی وقت کے مطابق 12:30 بجے یورپی یونین میں برطانوی سفیر سر ٹیم بورو کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔اس کے بعد وزیراعظم کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گی اور ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کا عمل شروع ہو گیا ہے۔وہ وعدہ کریں گی کہ مذاکرات کے دوران 'برطانیہ کے ہر باسی کی نمائندگی کی جائے گی' جن میں برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہری بھی شامل ہیں جن کے مستقبل بریگزٹ کے بعد سے غیرواضح ہے۔وہ کہیں گی: 'میرا سخت عزم ہے کہ میں اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کے لیے بہترین معاہدہ کروں۔ کیونکہ ہمیں اس سفر پر مواقع بھی پیش آئیں گے اور ہماری مشترکہ اقدار، مفادات اور مقاصد ہمیں ایک نقطے پر لے آئیں گے۔خیال رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین سے بریگزٹ سے متعلق دو سال مذاکرات کا آغاز کریں گی جن میں یوپی یونین کے ساتھ نئے تعلقات کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔برطانوی وزیرِ اعظم نے کرسمس سے پہلے کہا تھا کہ وہ بریگزٹ کا عمل مارچ کے اختتام تک شروع کرنا چاہتی ہیں لہذا وہ 25 مارچ کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔برطانوی ایوان بالا میں 118 ووٹوں کے مقابلے میں 274 ووٹوں سے یورپی یونین چھورنے کے لیے بل کو بنا ترمیم کے منظور کیا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے ایوان زیریں میں 122 کے مقابلے 494 ارکان پارلیمان نے وزیراعظم ٹریزا مے کو بریگزٹ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے سوال پر ہونے والے تاریخی ریفرینڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved