حکومت گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش نہ کرے،آل پارٹیزکانفرنس
  30  مارچ‬‮  2017     |     یورپ

برمنگھم(پ ر) گلگت بلتستان آئینی اعتبار اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا حصہ ہے پوری ریاست کے مستقبل کا ابھی فیصلہ ہونا ہے بھارت اور پاکستان کو حق نہیں ہے کہ کشمیر کے کسی بھی حصے کو اپنے ساتھ شامل کریں مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری عوام ہیں کشمیرکے دونوں اطراف سے فوجوں کے انخلاکے بعد کشمیر کو کشمیریوں کے حوالے کیا جائے گا کہ جب کشمیری تیار ہوں تو اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری ہوگی بھارت پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی علاقے کا فیصلہ کرسکے اور گلگت بلتستان پر مقبوضہ کشمیر کی حریت قیات سید علی گیلانی میر وعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر شاہ کے موقف کی آج کی اس آل پارٹز کانفرنس میں مکمل حمائت کرتے ہیں اور حکومت پاکستان کو واضع پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش نہ کریں پاکستان کا دستور بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ان خیالات کا اظہار مختلف کشمیری اور پاکستانی جماعتوں کے رہنمائوں نے تحریک کشمیر برطانیہ کے زیر اہتمام کشمیر ہائوس برمنگھم میں منعقدہ آل پارٹز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کانفرنس کی صدارت تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کی۔ کانفرنس سے کشمیر کنسرن کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر نذیر شال، تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما چوہدری خادم حسین، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے جنرل سکریٹری تحسین گیلانی ۔ مرکزی جماعت اہل سنت کے جنرل سکریٹری مفتی فضل احمدقادری، پاکستان رابطہ کونسل کے جنرل سکریٹری حافظ محمد ادریس،پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چوہدری منظور حسین،چوہدری محمد شاہنواز، برٹش کشمیری فائونڈیشن کے صدر نائب حسین مغل، جمعیت علماء جموں و کشمیر کے مرکزی رہنما مولانا طارق مسعود، جماعت اسلامی مڈلینڈ زون کے کنونیر چوہدری دائود پہلوان، لبریشن لیگ کے رہنما چوہدری محمد اخلاق ، اسلم مرزا ، زاہد خٹک، ناصر راجہ، آصف مغل ،چوہدری بشارت حسین، آصف مغل ، ورلڈکشمیر فریدم موومنٹ کے ظفر قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان ایسے ایشوز کو نہ چھیڑے کہ جس سے مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹ کر پاکستان پر مرکوز ہوجائے برہان وانی کی شہادت کے بعد حکومت پاکستان نے حالات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا سیاسی اور سفارتی محاذ پر مکمل خاموشی پائی جاتی ہے مقبوضہ کشمیر میں نوجوان ہر روز شہادتوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اس وقت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر حالات پر مرکوز کرانے کی ضرورت ہے گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی اور جمہوری حقوق دیئے جائیں مگر اس کی آئینی حیثیت کو نہ چھڑا جائے اس کا بھارت فائدہ اٹھائے گا اور اور اس سے تحریک آزادی کو نقصان ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس ضمن میں حکومت پاکستان کو برطانیہ میں آباد کشمیریوں اور پاکستانیوں کے جذبات اور تشویش سے آگا کیا جائے گا اس پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا پاکستان کی تمام جماعتوں کو بھی اس پر توجہ دلائی جائے گی کہ وہ حکومت پر دبائو ڈالیں کہ وہ کشمیر کے کسی بھی حصے کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے گریز کریں اور مقبوضہ کشمیر کے حالات پر توجہ دی جائے، اجلاس سے خواجہ محمد رفیق، غضنفر علی، چوہدری محمد اخلاق، یاسر احمد شال ، چوہدری عبدالمجید، شعیب احمد اور دیگر رہنمائوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت اور بھارت کے خلاف برسر پیکار عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کی گیا شہدا کے دعا کی گئی ۔ بھارت نے حریت قیادت پر جس طرح پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گی، کانفرنس کا اختتام مفتی فضل احمد قادری کی دعا پر ہوا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved