داعش نے آسٹریلوی بچے کو اسکے باپ سے انتقام لینے کی خاطر موت کے گھاٹ اتار دیا
  1  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

لندن (روزنامہ اوصاف)شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے ایک آسٹریلوی بچے کو اس کے باپ سے انتقام لینے کی خاطر موت کے گھاٹ اتار دیا۔برطانوی اخبار’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘نے انکشاف کیا ہے کہ داعش نے ایک آسٹریلوی بچے کو اس کے باپ سے انتقام لینے کی خاطر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تنظیم کو ظاہر ہو گیا تھا کہ اس بچے کا باپ لڑائی کے میدان سے راہ فرار اختیار کرنے اور اپنے آبائی وطن آسٹریلیا واپس لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔اخبار مذکورہ بچے کی عمر کا تعین کرنے میں کامیاب نہیں رہا اور یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا یہ بچہ تھا یا بچی، تاہم اخبار کے مطابق داعش کو جب معلوم ہوا کہ اس بچے کے باپ نے فرار اور واپسی میں مدد کے لیے آسٹریلوی حکام سے رابطہ کیا ہے تو تنظیم نے فوری طور پر انتقامی کارروائی کرتے ہوئے بچے کو موت کی نیند سلا دیا۔"ڈیلی ٹیلی گراف" کے مطابق شام اور عراق میں داعش سمیت دہشت گرد تنظیموں کی صفوں میں لڑنے والے آسٹریلوی شہریوں کی تعداد 100 کے قریب ہے۔آسٹریلیا میں اٹارنی جنرل جارج برینڈس کا کہنا ہے کہ حکومت ہر اس آسٹریلوی ماں یا باپ پر فردِ جرم عائد کرے گی جو جنگ کے مقام پر اپنے اہل خانہ کو ساتھ رکھتے ہیں۔مغربی رپورٹوں کے مطابق داعش تنظیم اپنے جنگجوں کا مال اور پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھتی ہے تاکہ ان میں سے کوئی فرار نہ ہو سکے اور تنظیم ان کو آخری وقت تک لڑائی میں مصروف رہنے پر مجبور کر سکے۔بین الاقوامی اتحاد اور عراقی فورسز کی جانب سے داعش کو اکثر ٹھکانوں سے نکالے جانے کے بعد تنظیم کو دونوں ممالک میں انتہائی دشوار صورت حال کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق عراق میں داعش کے سب سے بڑے گڑھ موصل شہر میں معرکہ اپنے فیصلہ کن اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے جب کہ تنظیم کے ایک ہزار سے کم ارکان اب بھی شہر کے اندر موجود ہیں جن کا خاتمہ جلد متوقع ہے۔ادھر شام کے شہر الرقہ میں بھی داعش تنظیم کے خلاف موصل کے طرز پر کارروائی کی جانے والی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved