حکومت توہین رسالتۖ قانون پرعملدرآمدیقینی بنائے،مولانااسلام علی
  14  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

و یک فیلڈ(پ ر )جمعیة علما برطانیہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا اسلام علی شاہ نے مردان ولی خان یونیورسٹی میں کسی طالب علم کو اس جرم میں کہ اس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی جس کی وجہ سے اس کو قتل کردیا گیا کے بارے میں اخباری بیان دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں اسلامی قانون کے مطابق گستاخ کی سزا قتل ہے مگر کیا جس طریقہ سے اس لڑکے کو قتل کیا گیا آیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ اس کا جواب تقریبا ًسب ہی علما کی جانب سے یہی جواب آئے گا کہ جرم ثابت نہ ہونے تک کسی فرد کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ سزا دینا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے نہ کہ افراد کی۔ اور جب قانون اور حکومت موجود ہے تو پھر اس طرح قانون کو ہاتھ میں لیکر قتل کرنا کسی صورت میں صحیح نہیں ہے۔ قانون موجود ہے اور اس کے لئے مکان عدالت موجود ہے۔ قانون کے مطابق چلنا اسلام سکھاتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی جس نے گستاخی کی تو اس کو بھی باقاعدہ اسلامی حکومت کے سامنے پیش کیا گیا جو فیصلہ سربراہ اسلامی حکومت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا اس کے مطابق گستاخ رسول کو قتل کیا گیا۔ ہر گز کسی صحابی نے قانون اپنے ہاتھ میں لیکر اور رسول کرم کی اجازت کے بغیر کسی کو قتل نہیں کیا۔ اس لئے مسلمان ایسے لوگوں کو عدالت میں لے جاکر سزا دلوائیں تاکہ آئین وقانون کی بالادستی قائم رہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی گستاخ رسول کے قانون پر عملداری کو یقینی بنائے تاکہ مسلمانوں کو یقین ہو کہ قانون ہے اور اس پر عملداری بھی ہے ۔ اگر قانون پر عملداری نہ ہوگی تو پھر مسلمانوں کے جذبات بے قابو رہیں گے اور پھر مسلمان قانون اپنے ہاتھ میں لیکر خود گلی کوچے میں اس طرح قتل کرتے رہیں گے جس کا روکنا علما اور حکومت کے لئے مشکل ہوجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ وقت کی حکومت قانون پر عمل نہیں کرواتی یا سستی کا مظاہرہ کرتی ہے جس کی وجہ سے آئے روز افسوسناک واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ جس سے مذہب ، مسلمان اور پاکستان کے بارے میں اچھے تاثرات دنیا میں نہیں جاتے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved