روس،22 خواتین کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والے سابق پولیس افسر کے خلاف مزید 60 خواتین کے قتل کی تحقیقات
  15  اپریل‬‮  2017     |     یورپ
ماسکو (آن لائن) روسی پولیس نی22 خواتین کے قتل کے جرم میں دو سال قبل عمر قید کی سزا پانے والے 53 سالہ سابق پولیس افسر کے خلاف مزید 60 خواتین کے قتل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔روسی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ملازمت کے دوران میخائل پوپکوف کو اپنی بیوی اور بچوں سے محبت کرنے والا ایک مثالی پولیس آفیسرسمجھا جاتا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ میخائل پوپکوف نے 60 میں سے 59 خواتین کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔پولیس کا اندازہ ہے کہ میخائل پوپکوف کے ہاتھوں زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل ہونے والی خواتین کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس نے جتنی خواتین کو قتل کیا ان کی عمریں 17 اور 40 سال کے درمیان تھیں۔ ان خواتین میں اس کی اپنی بیٹی کے سکول کی خاتون ٹیچر، دو طالبات اور متعدد طوائفیں شامل ہیں۔میخائل پوپکوف نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے زیادہ تر قتل پولیس کی وردی میں اور ڈیوٹی کے دوران کئے۔اس نے تمام خواتین کو قتل سے پہلے اور بعض کو قتل کے بعد بھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔اس نے خواتین کو قتل کرتے وقت شدید تشدد کا نشانہ بنایا ، کئی کا سر تن سے جدا کر دیا اور کئی کا دل نکال لیا۔اس کا شکار بننے والی خواتین کی لاشیں مختلف مقامات سے برہنہ حالت میں ملیں۔اس کا شکار بننے والی خواتین میں سے صرف ایک پندرہ سالہ لڑکی زندہ بچ نکلی اور اس نے پولیس سے شکایت بھی کی اور میخائل پوپکوف اور اس کی سرکاری کار کو شناخت بھی کر لیا لیکن اس کے محکمہ اور بیوی کی طرف سے اس کی نیک نامی کی گواہی پر متاثرہ لڑکی کے بیان کو جھوٹ قرار دے دیا گیا۔میخائل پوپکوف نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک شریف شہری اور نیک نام پولیس افسر تھا لیکن ایک دن اس کے علم میں آیا کہ اس کی بیوی کے اس کے ساتھی پولیس اہلکار کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔اس انکشاف پر اسے جہاں شدید صدمہ ہوا وہیں اس کے دل میں کسی عورت کو قتل کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی اور اس خواہش کے تحت اس نے سب سے پہلے ایک ایسی خاتون کو قتل کیا جسے اس نے اپنی سرکاری کار میں لفٹ دی تھی اور اس کے بعد خواتین کے قتل کو معمول بنا لیا۔ میخائل پوپکوف نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے اقدامات سے علاقے کو ناپسندیدہ عناصر سے پاک کیا ہے اور اسے اس عمل پر کوئی افسوس نہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 

رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved