کم سن لڑکیوں کے نسوانی ختنے کرنے پرڈاکٹرکیخلاف مقدمہ
  16  اپریل‬‮  2017     |     یورپ
لند ن ( پ ر )امریکی شہر ڈیٹرائٹ میں کم سن لڑکیوں کے نسوانی ختنے (ایف جی ایم) کرنے پر ایک ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ملک میں اپنی طرز کا پہلا واقعہ ہے۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ جمانا ناگروالا گزشتہ بارہ سال سے چھ سے آٹھ سال عمر کی بچیوں کے ختنے کر رہی تھیں۔ حکام نے خفیہ اطلاع ملنے پر ان سے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ وہ قصور وار ہیں جس پر انہیں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایف جی ایم کو 1996 میں امریکہ میں غیرقانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ تفتیشی افسران نے قبل ازیں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈاکٹر ناگروالا اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ وہ ایسا کوئی کام کر رہی ہیں۔ لیکن پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ وہ واقعی وہ اس وحشیانہ کارروائی کا ارتکاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعض لوگ ریاست مشی گن سے باہر سے بھی ان کے پاس آتے تھے جنہیں کہا جاتا تھا کہ وہ کسی کو اس بارے میں نہ بتائیں۔ ڈاکٹر ناگروالا ڈیٹرائٹ کی وفاقی عدالت میں پیش ہوئیں اور انہیں ریمانڈ پر حراست میں لے لیا گیا۔ قائمقام امریکی اٹارنی ڈینیل لیمش کا کہنا ہے کہ نسوانی ختنے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کی وحشیانہ شکل ہے جو امریکہ میں ایک سنگین جرم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید معاشرے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے اور جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وفاقی قانون کے تحت ان کی جوابدہی ہو گی۔ ریکارڈ کے مطابق امریکہ میں ایف جی ایم کا پہلا واقعہ 2006 میں سامنے آیا جب ایتھوپیا کی ایک امیگرنٹ کو پانچ سال قبل اپنی دوسالہ بچی کو اس وحشیانہ کارروائی کا نشانہ بنانے پر دس سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ 2012 میں امریکی حکام نے بتایا کہ ملک میں پانچ لاکھ خواتین اور بچیاں ایف جی ایم کا شکار ہو چکی ہیں یا انہیں اس کا خطرہ درپیش ہے۔ دنیا بھر میں بیس کروڑ لڑکیوں اور خواتین کو کسی نہ کسی شکل میں ایف جی ایم کا خطرہ درپیش ہے جن میں سے نصف مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا میں مقیم ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved