ملک بدامنی کاشکار،حکومت کھوکھلے دعوے کررہی ہے،علامہ سجادرضوی
  16  اپریل‬‮  2017     |     یورپ
ہیلی فیکس (پ ر) ملک بدامنی شورش کا شکار ہے جبکہ حکومت کھوکھلے دعوئوں سے کام لے رہی ہے۔ چوری' ڈکیتی' دنگا فساد اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے مگر حکمرانوں کو اپنی کرسی کی فکر کھائے جارہی ہے۔ مقدس ہستیوں کی توہین پر اگر سخت نوٹس لیا ہوتا تو یونیورسٹی تک یہ زہر نہ پھیلتا' ممتاز قادری کی پھانسی میں بے وجہ عجلت اور آسیہ گستاخ کے واضح اقرار کے باوجود اس کی سزا میں نہ صرف تاخیر بلکہ لیت و لعل سے کام نے پاکستانی عدالتوں کے عدل و انصاف کے عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ پاکستان مین قانون کمزوروں' غریبوں اور ناداروں کے لئے حرکت میں آتا ہے جبکہ سیاسی بدمعاشی اور قاتل بیسیوں مقدمات میں نامزد ہونے اور شواہد ملنے کے باوجود دندناتے پھررہے ہیں جو کہ عدالتوں کے غیر متوازن اور غیر شفاف فیصلوں کے منہ پر طمانچہ ہے جس ملک میں لیڈر جمہوریت کے نام پر کرپشن کرتے ہوں' اربوں ڈکارنے کے باوجود صادق اور امین کہلائیں اور سرکاری مولوی اور پیر ان کے حق میں دعا گو ہوں ایسے وقت اور حکمران سے پناہ مانگنی چاہئے۔دینی ریسرچ سکالر علامہ محمد سجاد رضوی نے اپنے ایک بیان میں حالیہ طالب علم کے ناموس رسالت کے حوالے سے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے قبل بہت سے آئی ڈیز منظر عام پر آچکی ہیں جن سے ملحدانہ خیالات کی ترویج کی جارہی ہے اور سر عام شعائر اسلامیہ کی توہین اور قرآن و صاحب قرآن کے خلاف گندا زہر اگلا جاتا رہا مگر ایسے لوگوں کی شناخت ہونے اور پکڑے جانے کے باوجود کسی قسم کی ٹھوس کارروائی عمل میں نہ لائی گئی بلکہ دجالی میڈیا ان کی پشت پناہی کرتا رہا اور طاغوتی اینکرز چیخ چیخ کر ان کی حمایت میں نکل آئے صدر افسوس بات یہ ہے کہا سلامی جمہوری ملک پاکستان کے نام تک کی لاج نہ رکھی گئی اور اسلامی اقدار کو نہ صرف پامال کیا گیا بلکہ ان کی تضحیک کی گئی اور محسن انسانیت پیغمبر اعظمۖ کی شان میں گستاخی کو معمولی سمجھا گیا آج برطانیہ میں بھی دہرے معیار پر عمل ہورہا ہے عوامی اور دینی محفلوں میں دین کے نام پر کمانے والے ' حرمت رسالت کے مسئلہ پر صامت و ساکت ہیں حالانکہ یورپ بھی جانتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاں صرف حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہی نہیں تمام انبیاء و رسل بشمول حضرت ابراہیم' حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام مقدس ترین ہستیاں ہیں اور ان کی توہین اہل اسلام گوارا نہیں کرسکتے۔ پاکستان ہو یا یورپ امن قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی مذہب اور دین کے پیشوا لوگوں کی توہین کو جرم قرار دیا جائے اور قانون پر بزور عمل کرایا جائے تاکہ مردان کے سانحہ جیسے حالات نہ دیکھنے پڑیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved