امام العارفین ٹرسٹ میں کام کر کے روحانی سکون ملتاہے،ڈاکٹرپرویز
  17  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

لیڈز ( آ صف قریشی سے ) امام العارفین ٹرسٹ میں کام کر کے روحانی سکون میسر آتا ہے حضرت میاں محمد بخش عارف کھڑی شریف نے لوگوں کو زندگی گزانے کا شعور دیا ہے انہوں نے تشبیہوں اور استعاروں کی زبان میں اسرارو رموز فلسفہ حسن و عشق کے ان لوگوں سے پر دہ اٹھایا ہے جن تک کسی فلسفی کی نظر نہیں پہنچی یہی وجہ ہے کہ خطہ پوٹھوار شمالی علاقہ جات جموں و کشمیر اور اب یورپ اور بر طانیہ میں بھی شائد ہی کوئی گھر ہو جہاں سیف الملوک کو بر کت کے طور پر پڑھا نہ جا تا ہو کیونکہ حضرت میاں محمد بخش عارف کھڑی شریف کی شاعری کا اصل موضوع عشق حقیقی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں میاں صاحب کی اپنی تصویر کا عکس نظر آتا ہے حضرت میاں محمد بخش عارف کھڑی خود بھی کامل ولی کا مقام رکھتے تھے اس لیے ان کے اشعار میں ہر شخص کو اصل منزل منظر دکھائی دیتا ہے حضرت میاں محمد بخش عارف کھڑی نے پنجابی زبان کو ایسے شعر بخشے جن کی چمک اور دمک صدیوں تک پنجابی ادب کے ایوان میں جگمگاتے رہیں گئے ان خیالات کا اظہار نومنتخب سیکر یٹر ی جنر ل امام العارفین ٹرسٹ بر طانیہ و ممتاز سماجی سیاسی روحانی شخصیت ڈاکٹر پر ویز چوہدری نے اوصاف سے حضر ت میاں محمد بخش رومی کشمیر کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ایسے ٹرسٹ میں کام کر کے دلی سکون حاصل ہوتا ہے جنہوں نے زندگی بھر عوام کی خدمت کی آپ کادور ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کیلئے بڑا پر آشوب تھا کیونکہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے عہد نامہ امر تسر کے تحت انگریزوں سے ریاست کو خرید لیا تھا اور مطلق العنان حکمران بن گیا تھا حضر ت میاں محمد بخش عارف کھڑی نے اپنے کلام میں جابجا ان حالات کی عکاسی کی ہے شاعر مشرق علامہ اقبال کا تعلق بھی کشمیر سے تھا لیکن حضر ت میاں محمد بخش عارف کھڑی کا دور ان سے کچھ عر صہ پہلے کا تھا لاہور میں ایک بار ایک تقریب میں حضر ت میں محمد بخش عارف کھڑی کا کلام سنتے سنتے شاعر مشرق علامہ اقبال پر رقت طاری ہو گئی انکی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور علامہ اقبال نے کہا کہ اگر آج رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخش زندہ ہوتے تو میں ان کے ہاتھ چوم لیتا حضر ت میاں محمد بخش کی شاعری کو علامہ اقبال نے یوں کہا ہے کہ مقام شوق تیرے قدسیوں کے بس کا نہیں ، نہیں کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیادہ ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت میاں محمد بخش اور علامہ اقبال دونوں بڑے عاشق رسول تھے اور انسانیت کے تر جمان تھے اسی لیے دونوں کے کلام میں بہت اشتراک پایا جاتا ہے جس کی ایک وجہ دونوں کا مولانا روم سے متاثر ہونا ہے اور دونوں حضرات کا تعلق سلسلہ قادریہ سے تھا حضرت علامہ اقبال نے قاضی سلطان محمود کے ہاتھوں پر بیعت کی اور سلسلہ قادریہ سے وابستہ وہئے قاضی سلطان محمود حضر ت میاں محمد بخش کے ہم عصر تھے دونوں میں اکثر ملاقاتوں کا سلسلہ رہتا تھا انہوں نے کہا کہ حضرت میاں محمد بخش صوفی منش تھے انہوں نے کہا کہ سیف الملکوک ایک تخیلاتی کہانی ہے جس کا مر کزی کر دار شہزادہ سیف الملوک بمعنی سلاطین کی تلوار ہے جو مصر کے بادشاہ عاصم بن صفوان کی تلوار ہے جو مصر کے بادشاہ عاصم بن صفوان کا بیٹا ہے ایک پر ی بدیع الجمال بمعنی خوبسورتی میں ہے مثل جو جو شر ستان کے بادشاہ شاہ پال کی بیٹی ہے کی تصویر کپڑے کے ایک ٹکڑے کو دیکھ کر عاشق ہو جاتا ہے شہزادی شر ستان میں واقع ایک باغ جس کا نام باغ ارم ہے میں رہتی تھی تصویر کو دیکھنے کے بعد شہزادہ سیف الملکوک بدیع الجمال کی تلاش میں نکل پڑا اس کا یہ سفر کم و بیش چودہ سالوں پر محیط ہے انہوں نے کہا کہ سیف الملوک کو پوری دنیا میں پرھنے اور سننے کیلئے تقارین منعقد ہوتی ہیں لوگ بڑے شوق سے عظیم صوفی شاعراور رومی کشمیر کے کلام سے روھانی سکون حاسل کر ت ہیں اور سیف الملکوک ہی کی وجہ سے لوگوں کی بہت بڑی اکثریت میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ خاص محبت اورا نسیت رکھتی ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں نوجوان نسل کو اہم کلام کی طر ف راغب کونا ہو گا تاکہ نوجوان نسل کو زندگی خوشگوار طر یقے سے گزارنے کا اسلوب حاسل ہو سکے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved