عوام کے ہاتھوں مجرم کاقتل لمحہ فکریہ ہے،قاری عبدالرشید
  17  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

اولڈھم (پ ر )پاکستان کو عالم اسلام میں دو انفرادی خصوصیات حاصل ہیں اول، سال میں جتنے قرآن مجید کے حافظ وحا فظات پاکستان میں تیار ہوتے ہیں.یہ تعداد کسی بھی اسلامی ملک کے پاس نہیں. سال 2017 کے اپریل میں صرف وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت حفظ قرآن کا امتحان دینے والے بچوں اور بچیوں کی تعداد ستر ہزار سے زائد تھی. باقی وفاقوں اور غیر رجسٹرڈ مدارس اور مساجد و مکاتب میں حفظ کی سعادت حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی تعدا د اس کے علاوہ ہے.دوسری خصوصیت پاکستان کی یہ ہے کہ اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہے.ان خیالات کا اظہار جمعیت العلما برطانیہ کے مرکزی سیکٹری نشرو اشاعت مولانا قاری عبدالرشید نے ٹیکسلا کے نواحی گائوں گڑھی افغاناں میں قائم دینی ادارے جامعہ رحمانیہ انوارالقرآن کے سالانہ جلسہ دستار فضیلت و تقسیم انعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا.علما ء علاقہ سے گفتگو کرتے ہوئے قاری عبدالرشید کا کہنا تھا کہ وطن عزیز میں آئے روز مختلف واقعات کی آڑ میں تحفظ ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو موضوع بحث بنا کر کچھ لوگ اس قانون کو ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیںاور ،ٹی وی ٹاک شوز، کے پروگراموں کی ریٹنگ بڑھاتے ہیں.حالانکہ وہ اچھی طرح یہ بات جانتے اور مانتے ہیں کہ توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون کسی کو کسی کے خلاف نہ ا کساتاہے اور نہ ہی بھڑکاتا ہے. انھوں نے کہا کہ ریاستوں میں قوانین انسداد جرائم کیلئے ہوتے ہیں.یہ بات عجیب نہیں کہ مجرموں کو تو نہ روکو اور جرم کے ثابت ہوجانے کے بعد جو قانون مجرم کو سزا دے رہاہو.اس کو ختم کرنے کے مطالبے شروع کردو .اس سے معاشرے میں مجرم پیدا کرنے کی سازش سمجھ میں آتی ہے. ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ اس قانون کے مخالفین یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اب جب کہ قانون بھی موجود ہے .تو .ملک میں لوگ از خود ہی طیش میں آکر کسی بھی توہین کے مرتکب فرد کو سزا دینے لگ جاتے ہیں.جو کہ ریاست اور حکومت وقت کا کام ہے اشتعال کے موقع پر لوگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا انتظار تک گوارا نہیں کرتے.اگر خدانخواستہ یہ قانون توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ختم کر دیا گیا تو پھر صورتحال کیا ہو گی ؟ حکومت کو بہرحال اس بات کو ذہن میں رکھ کر اس قانون کا دفاع کرناچاہیے.ایک سوال کے جواب میں قاری عبدالرشید نے کہا کہ مردان والے واقعہ میں اگر دینی مدارس کے طلبا ملوث ہوتے یا کسی دینی جماعت کے کارکنوں کے ہاتھوں یہ واقعہ سرزد ہوا ہوتا تو کیا میڈیا و حکومت اور این جی اوز کا رویہ ایسا ہی ہوتا جیسا یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ہے؟ حکومتوں کی ڈبل گیم اور مجرموں کے ساتھ دہرا رویہ کسی بھی معاشرے میں ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے.اور عوام کے ہاتھوں کسی بھی مجرم کی پٹائی یا قتل حکومت کے لیئے بہرحال لمحہ فکریہ ہوا کرتا ہے.آخر ایسے واقعات آئے روز وطن عزیز پاکستان میں ہی کیوں کروائے جاتے ہیں؟ان کی روک تھام کا ذمے دار کون ہے ؟عمران خان کی حکومت میں اتنابڑا واقعہ یونیورسٹی میں ہوا ہے اگر صوبے میں علما کی حکومت ہوتی اور ایسا کوئی واقعہ ہو جاتا تو عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف اس پر کیا رد عمل دیتی ؟اب سب خاموش کیوں ہیں؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved