مختارمسعودکی وفات قومی نقصان ہے،مولاناعبدالاعلیٰ درانی
  18  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

بریڈفورڈ(پ ر) مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے سیکرٹری اطلاعات مولاناحافظ عبدالاعلی درانی نے وطن عزیز کے معروف ادیب و دانشور، تحریک پاکستان اور تعمیر پاکستان کے ممتاز رہنمامختار مسعود کے انتقال پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو ایک ناقابل تلافی قومی نقصان قراردیاہے،مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے عظیم مناصب پرفائزکیاتھا اوریہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے اپنے فرائض میں کبھی کوتاہی نہیں کی ، بلکہ وہ اپنے منصب فرضی کو خواہش قلبی کے ہم آہنگ سمجھتے ہوئے اسے خوش نصیبی جانتے تھے اسی لیے وہ قائداعظم کے پاکستان کے ممتاز معماروں میں شمار ہوتے تھے ، مرحوم ممتاز ماہر معاشیات ، بہترین منتظم ، دیانتداربیوروکریٹ اوراعلی خاندانی روایات کے امین تھے ،لاہور کاکمشنربن کران کا سب سے بڑا کارنامہ مینار پاکستان کی تعمیرتھاجس لگن جذبے حوصلے اور ذہانت سے انہوں نے اس کی تعمیر مکمل کی اس نے انہیں تاریخ پاکستان کا ایک مخلص معمارقراردیاجاسکتاہے ، اسی طرح مسجد شہداء کی منفرد طرزتعمیر بھی مرحوم کی بہترین باقیات الصالحات میں شامل ہیں، جس کاثواب انہیں ان شاء اللہ تاقیامت ملتا رہے گا، ، مختارمسعودخودعلی گڑھ کے تعلیمیافتہ تھے اور اس تعلیمی ادارے کو ایک چھوٹاساپاکستان سمجھتے تھے اورپاکستان کوایک برا سا علیگڑھ قراردیتے تھے ۔انہوں نے سی ایس ایس کاامتحان امتیازی نمبروں میں پاس کیا۔اوراسسٹنٹ کمشنر،ڈپٹی کمشنراورکمشنر لاہور، سیکرٹری خوراک ،سیکرٹری خزانہ ،سیکرٹری منصوبہ بندی جیسے عظیم مناصب پر فائز ہوکراپنی جدو جہداور سچی لگن سے بڑانام کمایا، انہوں نے بحیثیت سیکرٹری جنرل آر سی ڈی دنیا کے ہرملک کی سیر کی ، اور ہر جگہ ان کا مطمع نظر ہمیشہ اپنے وطن کی خیرخواہی اور تعمیر وترقی کے اصول سمجھنارہا۔مختار مسعود نے اپنے وقت کے ہر بڑے آدمی سے آٹو گراف بھی لیا لیکن ان کاایک معیارتھا دیانت و شرافت اور اپنے وطن کے ساتھ اخلاص ، اورہر آٹوگراف کے پیچھے ایک کہانی ہے ،کچھ کا ذکر انہوں نے ''آوازدوست'' میں کردیا ہے اوربہت زیادہ کہانیاں ابھی باقی ہیں ۔جوان کے لواحقین کافرض بنتاہے کہ انہیںبھی تاریخ پاکستان کاایک حصہ بنائیں۔ مولاناعبدالاعلی نے مزیدکہا کہ ''آواز دوست'' جیسی لافانی کتاب کے مصنف مختارمسعود نے قائداعظم کے پاکستان کاحقیقی نقشہ دنیا کے سامنے رکھا یوں تاریخ کی نظر میں وہ معماران پاکستان میں شامل ہوگئے،اس طرح کی کلاسیکل کتابیں شایدصدیوں بعد معرض وجود میں آتی ہیں ۔ ''آوازدوست'' جیسی لافانی تصنیف ان کی ذہانت وفطانت کامنہ بولتا ثبوت ہے ، انہوں نے کہا مختار مسعود اور قدرت اللہ شہاب جیسے حساس قلب و ذہن کے مالک بیوروکریٹ ہمارے ملک کاوہ سرمایہ ہوتے ہوں جن کے اخلاص سے اہل وطن کا قبلہ درست سمت رواں رہتاہے ، ان کی کارکردگی پر وطن ہمیشہ فخر کرے گا، اسی وجہ سے وہ حکمرانوں کی ناہلیت پر دلگرفتہ رہاکرتے تھے ، کیونکہ ان کی نالائقیاں وطن عزیزکواس کے اصل راستے سے ہٹانے کاباعث بنی ہیں۔مولاناعبدالاعلیٰ نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ ان کی ملکی و تعمیراتی اور ادبی خدمات کوقبول فرماتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا کرے اور قوم کوان کا نعم البدل دے، اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved