مردان یونیورسٹی کا واقع انتہائی دردناک ہے،حافظ نثار
  18  اپریل‬‮  2017     |     یورپ
ڈربی (پ ر) پاکستان رابطہ کونسل ڈربی کے چیئرمین حافظ نثار احمد نے کہا ہے کہ مردان یونیورسٹی میں مشال خان کو توہین رسالت کا الزام لگا کر جس بے دردی سے قتل کیا گیا یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقع ہے اس طرح قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت ہر گز نہیں دی جاسکتی پاکستان میں قانون کی بالا دستی نہ ہونے کی وجہ سے توہین رسالت کے قانون کو لوگ سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں غلط اور جھوٹے الزام لگا کر عام آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے ریاست بھی اس میں پوری طرح ملوث ہے مدر پدر ا آزاد لبرل طبقہ قانون پر عمل درآمد کی بجائے توہین رسالت کو تبدیل کرنے کے لیے مہم چلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین اور دستور پر صیح معنوں میں عمل درآمد نہیں ہوتا حکمران خود قانون کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں ماڈل ٹائون میں دہشت گردی ہمارے سامنے ہے جس ملک کے بڑے قانون سے بالاتر ہو جائیں پھر عام لوگ بھی من مانی کرنا شروع کر دیتے ہیں ناموس رسالت کے قانون کو جس طرح غلط استعمال کیا جارہا ہے ایسے مجرموں کو اگر سزا نہ دی گئی تو ملک میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے اور اس سے پاکستان اور اسلام دشمن قوتیں فائدہ اٹھائیں گی ۔ حافظ نثار نے کہا کہ مردان یونیورسٹی کا واقع انتہائی دردناک ہے مشال خان کو قتل کر کے ان کی لاش کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس طرح میدان جنگ میں بھی دشمن کے ساتھ نہیں کیا جاتا تعلیمی اداروں میں جس طرح کے حالات پیدا کیے جارہے ہیں لگتا ہے کہ اب دشمن نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے اور نوجوانوں کو لڑانے کی سازشیں کی جارہی ہیں تعلیمی اداروں کے اندر فساد شروع کرانے کی کوششیں کی جائیں گی اس سے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں خواتین کے یوم پاکستان کی تقریب پر حملہ کرایا گیا تھا اور غنڈہ گردی کرائی جا چکی ہے اسلام پسند طبقے اور علماء کرام کو ان حالات پر کڑی نظر رکھنی ہوگی اور عوام کو باخبر رکھا جائے کہ وہ من گھرٹ اور بے بنیاد الزامات کا حصہ نہ بنیں ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کریں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved