مشال کاوحشیانہ قتل ہماری قومی موت ہے،سائوتھ ایشین پیپلزفورم
  18  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

بریڈ فورڈ (پ ر) جنگ پرستی اور مذہبی جنونیت و منافرت پر مبنی ذہن سازی بند کرنا ہوگی' مذہبی انتہا پسندی اور جہادیوں کی فیکٹریاں اور نصاب تعلیم جو افغان وار میں امریکی معاونت سے بنائی گئی تھیں ابھی تک یوں کی توں ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کررہی ہیں ریاستی بیانیہ بدلنا ہوگا۔ مشال خان کا قتل وحشیانہ درندگی ہی نہیں بلکہ ہماری قومی موت ہے۔ سائوتھ ایشین پیپلز فورم کے بریڈ فورڈ میں ہونے والے اجلاس سے پروفیسر نذیر تبسم' پرویز فتح' خالد سعید قریشی اور لالہ محمد یونس نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ریاستی بیانہ ملک کو تباہی کی آخری منزل تک پہنچا چکا ہے۔ افغان وار میں جہاد کے نام پر نہ صرف دنیا بھر سے جہادی بھرتی کئے گئے بلکہ ملک کے قانون' آئین' تعلیمی نظام اور نصاب تعلیم' تہذیب و ثقافت کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ ہر طرف جہادی ہی پیدا ہوں۔ اسی بیانیے نے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کو بھی تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا۔ 80ہزار سے زائد شہریوں اور تین نسلوں کی ذہنی معذوری کے باوجود ہم آج بھی اسی سطح پر کھڑے ہیں۔ بالادست طبقات اور رولنگ سیاسی جماعتیں آج بھی جہادیوں کی مدد سے فتوحات پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشال خان کا قتل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت معمہ بنایا جارہا ہے تاکہ لوگوں کی وجہ اس موقع سے ہٹائی جاسکے۔ اصل مسئلہ ریاستی بیانیا اور پالیسیاں ہیں مشال خان کا کیس بنیادی طور پر قانون برائے توہین رسالت کا غلط استعمال ہے اور یہ پہلا کیس نہیں ہے۔ خدانخواستہ اگر مشال خان کے خلاف گواہ خرید کر توہین رسالت ثابت کرنے کی کوششیں کامیاب ہوجائیں تو کیا لوگ پھر بھی اسی شدت کے ساتھ اس سفاکانہ موت پر احتجاج کرتے؟ مشال خان ایک انسان تھا اور اس کا دن دیہاڑے ماورائے عدالت سفاکانہ قتل کیا گیا تھا تو کیا پھر بھی سیاسی قائدین مشال کے والدین سے ملنے جاتے؟ کیا میڈیا بھی اسی طرح سے کوریج دیتا؟ انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ توہین رسالت کا قانون جو سیاسی اور ذاتی جھگڑوں اور غریبوں کی املاک پر فیصلہ کرنے کے لئے استعمال ہونے لگا ہے اس کو کیسے روکا جائے۔ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے لئے یہی ایک آزمائش ہے جب اس پہلو پر بات ہوگی تو خاموش اکثریت پھر میدان میں آئے گی اور پھر اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اووروں کو بھی گستاخ قرار دیا جائے گا تب انتہا پسند مذہبی اور انسان دوست مذہبی لوگوں کے درمیان تفریق واضعہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن یا سوموٹو ایکشن سے مجرموں کو سزائیں ملی گیں یہ واقع دن دیہاڑے ہوا ہے ویڈیو موجود ہیں مجرم واضہ ہیں ہم ایک ایسے ملک سے وابستہ ہیں جہاں مولوی مسجد میں لائوڈ سپیکر پر اعلان کرتا ہے کہ فلاں نے توہین رسالت کی ہے اسے جہنم واصل کرنے کے لئے پہنچو۔ سب فوراً اپنے کام چھوڑ کر اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے' پتھر' اینٹیں اور منہ میں گالیاں لئے مولوی صاحب کی پکاڑ پر لبیک کہتے ہوئے دوڑتے ہیں تاکہ گستاخ (جیسے کہ مولوی صاحب نے بولا) کو جہنم واصل کرکے اپنے لئے جنت کمائیں۔ ایسا ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ بیسیوں مرتبہ ہوگیا ہے کہاں ہے ملک کی سیاسی قیادت' ریاست تو اپنے شہریوں کی ماں ہوتی ہے جو ہر شہری سے برابری کا سلوک کرتی ہے۔ ان کے تحفظ کی ضمانت ہوتی ہے ضیاء الحق کے سیاہ دور نے ریاست کے ماں جیسے کردار کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے لہذآ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست کو مذہب سے علیحدہ کرکے ملک کے تمام شہریوں کو برابری کے ساتھ تحفظ فراہم کیا جائے توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکا جائے اس کو معطل کرکے ایسا جھوٹا الزام لگانے والے کو سر عام پھانسی دی جائے مشال خان کے قاتلوں کو سزائے موت دی جائے اس میں ملوث کھلے عام اور پس پردہ اشخاص کی نشاندہی کرکے ان کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔مرکزی اور تمام صوبوں کی حکومتیں منافقانہ پالیسیاں چھوڑ کر ایسے تمام قوانین اور تعلیمی نصاب کو جدید ' سائنسی اور نان مذہبی بنیادوں پر تشکیل دیا جائے جو امن' بھائی چارے کو عام کرے اور ملکی بنیادوں کی مضبوطی کی ضمانت بن سکے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved