ممکنہ قبل ازوقت انتخابات ،برطانیہ بھرمیں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئیں
  18  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

بریڈ فورڈ (خصوصی رپورٹ:اعجاز فضل سے) برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی طرف سے عام انتخابات کے اعلان کے بعد برطانیہ بھر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئیں 8 جون 2017 کو ہونے والے عام انتخابات میں کون سی پارٹی میدان مارے گی اس پر سیاسی تجزیہ نگاروں اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینئر رہنمائوں کی مختلف رائے برسراقتدار پارٹی کے حق میں رائے عامہ ہموار دکھائی دینے لگی لیبر ' لیبرل ڈیموکریٹس اور دیگر پارٹیاں بھی پرعزم' برطانوی سیاست میں پاکستانی نژاد ممبران پارلیمنٹ کا اہم رول' بریڈ فورڈ' برمنگھم منتخب ہونے کے امکانات جبکہ مانچسٹر سے پہلی بار کسی پاکستانی نژاد برطانوی شہری کے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کی طرف سے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنے پر کمیونٹی رہنمائوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے برطانیہ میں پہلے مسلمان لارڈ میئر کا اعزاز حاصل کرنے والے لیبر پارٹی کے سینئر رہنما محمد عجیب نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھریسا مے کے مقابلے میں جیرمی اس وقت کمزور دکھائی دے رہے ہیں تھریسا نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے کیا ہے اس وقت یورپی یونین کے ساتھ علیحدگی اور بینفٹس کے حوالے سے سخت فیصلے لینے کے لئے تھریسامے کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ دوبارہ الیکشن کی صورت میں ٹوری پارٹی تھریسا مے کی لیڈر شپ میں اقتدار میں آئے گی جس سے تھریسا کو فیصلے لینے میں دشواری نہیں ہوگی۔ سابق لارڈ میئر بریڈ فورڈ اور لیبر پارٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ تھریسا مے نے قبل از وقت الیکشن کا فیصلہ کرکے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جیرمی کوربین نے بھی اس کی حامی بھری ہے ۔ غضنفر خالق نے کہا کہ برطانوی عوام کو وقت مل گیا ہے کہ وہ ٹوری پارٹی کے غلط فیصلوں کو مسترد کردیں اور جیرمی کوربین کو مضبوط کریں تاکہ برطانیہ میں لیبر کی حکومت قائم ہو ٹوری پارٹی نے برطانیہ میں عام آدمی کا جینا محال کررکھا ہے لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر کئے گئے ہیں اب برطانیہ کے عوام کے پاس ٹوری سے نجات حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ ٹوری پارٹی بریڈ فورڈ کے سیکرٹری مالیات راجہ اﷲ دتہ (اے ڈی خان) نے کہا کہ تھریسا مے کا فیصلہ بالکل درست ہے یورپ سے مذاکرات سے قبل ایک بار پھر برطانوی عوام سے مینڈیٹ حاصل کرنے کا جو فیصلہ وزیراعظم نے کیا ہے وہ بالکل سیاسی ہے ممتاز دانشور اور لیبر پارٹی کے سینئر رہنما گوہر الماس خان نے اس موقع پر کہا کہ تھریسا مے مارگریٹ تھیچر سے بھی زیادہ سخت وزیراعظم ثابت ہوں گی وہ طاقت حاص کرکے سخت فیصلے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں گوہر الماس خان نے کہا کہ آنے والا دور امیگرینٹس کے لئے انتہائی مشکل اور تکلیف دہ ثابت ہوگا ٹوری کو اقتدار سے باہر کرنا بہت ضروری ہے جس کے لئے برطانوی عوام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ جون 2017 کے بعد جو حکومت بھی اقتدار میں آئے گی اسے سخت فیصلے کرنا ہونگے۔ لیبرل ڈیموکریٹس کے بریگزٹ کے حوالہ سے ترجمان اور وفاقی پالیسی کمیٹی کے رکن کامران حسین نے اس موقع پر اوصاف سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبرل ڈیموکریٹس کی سیاسی قوت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے لوگوں کا لیبر اور ٹوری سے اعتماد اٹھ چکا ہے حکومت بریگزٹ کے حوالہ سے دبائو کا شکار ہے جس کی وجہ سے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے عوام کو ایک بار پھر موقع ملا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے ٹوری پارٹی کے غلط سیاسی فیصلوں کو مسترد کریں۔ ٹوری پارٹی کی سینئر رہنما فلک ناز نے اس موقع پر اوصاف سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان تھریسا مے کے جرات مندانہ اقدام ہے ملک کے استحکام اور مضبوطی کے لئے عام انتخابات ناگزیر تھے۔ فلک ناز نے کہا کہ ٹوری پارٹی نے برطانیہ کے عوام کے حق میں ٹھوس فیصلے کئے ہیں آئندہ حکومت بھی ٹوری پارٹی کی قیادت میں قائم کرے گی ہمارے مخالفین کے پاس کوئی ٹھوس سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ انتخابات


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved