مہنگے حج اورعمرہ پیکیج کی وجہ سے برطانوی عازمین کومشکلات
  19  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

برمنگھم (پ ر)برطانیہ میں عازمین حج و عمرہ کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم عمل قومی فلاحی تنظیم ایسوسی ایشن آف برٹش حجاج نے پاکستان کے حج منسٹر سردار یوسف کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اس سال پاکستان سے سرکاری سکیم کے تحت ایک لاکھ سات ہزار عازمین کو حج اخراجات کی مد میں دو لاکھ اسی ہزار روپے یعنی تقریباً 2,100 برطانوی پائونڈز ادا کریں گے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت کے اس فیصلہ کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے اس امر پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس کی نسبت حالیہ برسوں میں برطانیہ میں بلا جواز اور بے پناہ اضافہ کرکے عازمین سے دوگنی اور چوگنی رقم وصول کی جارہی ہے جس سے بڑی تعداد میں برطانوی مسلمان مشکلات کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں اور بالخصوص فیملیوں کے لئے مقدس فریضہ حج کی ادائیگی کو ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ مقدس مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لئے لندن سے جدہ کے سفر اور مکہ اور مدینہ میں دو سے تین ہفتوں کی رہائش پر مشتمل پیکج کو دنیا کا مہنگا ترین پیکج بنا دیا جانا انتہائی قابل افسوس ہے۔ انٹرنیٹ کے اس دور میں جبکہ اب بڑی تعداد میں فیملیاں اور بالخصوص نوجوان طبقہ کاروبار اور ہالیڈیز کے سلسلہ میں دیگر ممالک کا باقاعدگی سے سفر کرنے لگے ہیں تو دنیا بھر میں سفر سے متعلق اخراجات' معلومات اور اندازہ ہر کسی کو ہے اور وہ مذہب کے نام پر ہونے والے اس کھلم کھلا استحصال سے سخت نالاں ہیں۔ ایسوسی ایشن آف برٹش حجاج نے کہا ہے کہ وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے کہ برطانیہ کے مسلمان بالخصوص اپنی نئی نسل کا حرمین شریفین سے تعلق اور رابطوں کو مضبوط بنائیں تاکہ ان کے مستقبل اور معاشرہ میں ان کے کردار کو مثبت اور بہتر بنایا جاسکے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام مذہبی' سماجی اور سیاسی تنظیمیں اور رہنما اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے عازمین حج و عمرہ کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں بھرپور طریقہ سے اپنا کردار ادا کریں۔شکریہ۔ مہنگاحج


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved