امام معاویہ اسلام اورمسلمانوں دونوں کے محسن ہیں،مولاناقاری عبدالرشید
  19  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

اولڈھم (پ ر )سواد اعظم اہل سنت والجماعت کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری عبدالرشید نے 22رجب یوم امام معاویہ رضی اللہ عنہ کی مناسبت سے کہا کہ اسلام کے عظیم جرنیل فاتح عرب و عجم کی وفات والے دن ان کی دشمنی میں خوشی کرنا اور مٹھائی تقسیم کرنا دشمنان صحابہ کا عمل ہے .مسلمانوں کو اس سے بچانا علمائے کرام کا فرض منصبی ہے۔سیدناامام معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان ،صلح، جنگجو اور صلح جو، لوگوں کو قیامت تک جدا جدا کرتی رہے گی.صلح پسند ان کے درمیان اتحاد کا پرچار کریں گے.اور لڑائی پسند لوگ ان کے درمیان لڑائیوں کے چرچے کر کے مسلمانوں میں انتشار و اختلاف کو ہوا دیں گے.ایسے لوگوں کا بہترین علاج اور ان کو جواب صرف اور صرف ،حسن معاویہ،اتحاد زندہ باد، کے نعرے میں مضمر ہے. اس نعرے کو عام کرنے اور عنوان پر جلسے کانفرنسیں اور پروگرام منعقد کرنے کی بڑی ضرورت ہے. جس اختلاف کے بعد صلح ہوجائے تو شریف لوگ اس پر خوشی کا اظہار کرکے صلح کی بات لوگوں تک پہنچاتے ہیں.جبکہ شریر لوگوں کا وطیرہ شریفوں کے برعکس ہوتاہے. سواد اعظم اہل سنت والجماعت کے ناظم اعلی مولانا قاری عبدالرشید نے مزید کہا کہ صحابی رسول. امیر المومنین. امام معاویہ بن ابی سفیان ر ضی اللہ عنہما .اسلام اور مسلمانوں دونوں کے محسن ہیں.آپ رضی اللہ عنہ جتنے عظیم ہیں.اتنے ہی مظلوم بھی ہیں.حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت و مقام کو دیکھنے کے لیئے تاریخ کے اوراق نہیں بلکہ اللہ کا قرآن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بطور آئینہ تا قیامت موجود رہیں گے. آپ کے مقدس ہاتھوں نے قرآن لکھا.آپ زمانہ قبل از اسلام بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل نہیں آئے.آپ کے حق میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں فرمائیں. آپ ام المئومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہونے کی وجہ سے رشتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالے لگتے ہیں.اسی نسبت کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کو خال المومنین یعنی مسلمانوں کا ماموں بولا اور لکھا جاتا ہے.آپ کے زمانہ خلافت میں اسلام کی -سرحد چونسٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار مربع میل کے وسیع و عریض رقبے پر پھیل گئی.آپ کے کارنامے شمار سے باہرہیں. نواسہ رسول سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کر کے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر کے خلافت اسلامی جب ان کے سپرد کی تو معاویہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متفقہ امام و خلیفہ بن گئے .قاری عبدالرشید نے کہا کہ جو لوگ متنازع ہونے کی نسبت حضرت امام معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے ہیںوہ یاتو حضرت حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح و اتحاد سے لا علم ہیں.اگر ایسا نہیں تو پھر وہ اس اختلاف کو صلح ہوجانے کے بعد بھی بیان کر کے مسلمانوں میں انتشار و افتراق چاہتے ہیںجس اختلاف کے بعد صلح و اتحاد ہو جائے.تو ،صلح جو، لوگ پھر جنگ کی باتیں نہیں کیا کرتے.ایساشیوہ ،جنگ جو،لوگوں کا ہوا کرتا ہے. صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں شیر و شکر اور کھنڈ اور کھیر تھے.ان کے درمیان لڑائیوں کے تذکرے شریفوں کا نہیں شریروں کا شیوہ ہے مسلمانوں کو اس قسم کی شین سے بچنا بہت ضروری ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved