جلد ہی ثبوت ملے گا کہ ادلب پر اسد فوج نے ہی کیمیائی حملے کیے تھے: فرانس
  20  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

پیرس (ویب ڈیسک)فرانس کی خفیہ ایجنسیاں جلد ہی شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف اس امر کا ثبوت دیں گی کہ انھوں نے ہی 4 اپریل کو صوبے ادلب میں بے گناہ شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔ یہ بات فرانسیسی وزیرخارجہ یاں مارک آیرو نے ایک ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ فرانسیسی خفیہ ایجنسیاں اور ملٹری انٹیلی جنس شام میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کررہی ہیں یہ ایک اہم معاملہ ہے اور ہم اس امر کا ثبوت دیں گے کہ شامی انتظامیہ ہی نے یہ حملے کیے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ ایسے عناصر ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسد انتظامیہ نے جانتے بوجھتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ دوسری جانب شامی صدر بشارالاسد کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی حقیقت سے ہی انکاری ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 4 اپریل کو شمال مغربی صوبے ادلب میں زہریلی گیس کے حملے کی کہانی100 فی صد من گھڑت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی فوج تو تمام کیمیائی ہتھیاروں سے پہلے ہی دستبردار ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی پہلے ہی شامی فوج کو اس کیمیائی حملے کا مورد الزام ٹھہرا چکی ہیں لیکن شامی حکومت اس حملے میں ملوّث ہونے کی تردید کرتی چلی آرہی ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پرزہریلی گیس کے حملے میں متعدد بچوں سمیت ستاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved