مقامی کمیونٹی اورمسلمانوں کے درمیان فاصلہ کم کرناہوگا،علامہ ساجد
  20  اپریل‬‮  2017     |     یورپ
ہیلی فیکس (پ ر) برطانوی مسلم کمیونٹی کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے' مقامی انگلش آبادی اور مسلمانوں کے درمیان فاصلہ بڑھانے کی کوششیں ناکام بنانا دینی و سیاسی رہنمائوں کی اہم ذمہ داری ہے اگر ان دیکھی اسلام مخالف قوتوں کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے انگلش کمیونٹی نے جس طرح دوسرے ممالک سے ہجرت کرکے آنے والوں کو اپنی زمین پر برابر کے حقوق دیئے' برطانوی سماجی عدل اور مساوات کا منہ بولتا ثبوت ہیں مگر بدقسمتی سے دنیا کے دیگر خطوں سے اسلام مخالف زہریلی ہوا نے برطانوی مسلمانوں کو بھی از حد متاثر کیا ہے اور میڈیا کی ہرزہ سرائی نے اسلام فوبیا جیسا ماحول پیدا کیا ہے دوسری طرف اس سیلاب کو روکنے کے لئے مسلمانوں کے پاس ابھی تک عمومی طور پر پوری دنیا میں اور خصوصی طور پر برطانیہ میں ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں جہاں سے ردعمل کے طور پر ٹھوس علمی و تحقیقی جواب دیا جائے بلکہ طالبان اور القاعدہ کے بعد نام نہاد داعش نے اسلامی تشخص بگاڑنے اور مسلمانوں کے پرامن تشخص کو خراب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جس کا خمیازہ آج ہمیں اور ہماری نسلوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ سلفی اور وہابی تحریکوں کے نتیجہ کے طور پر ایک قلیل مگر شدت پسند گروہ اکثریت کے لئے باعث ندامت ہے۔ معروف ریسرچ سکالر علامہ محمد سجاد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ہماری نئی نسل باقاعدہ مقامی سیاست میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی اور سماجی و سیاسی میدان میں سرگرم عمل نہیں ہوتی حالات کا تبدیل ہونا دشوار دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کثیر الثقافت معاشرے میں تعلیم اور پختہ فکر کے بغیر اپنا وجود منوانا ناممکن ہے۔ اسلامی وقار کو بحال کرنے کے لئے ضروری ہے مسلمان نہ صرف سیاسی جماعتوں کا حصہ بن کر اپنی آواز مضبوط بنائیں بلکہ اپنے اداروں کو بھی ساز گار ماحول فراہم کریں تاکہ اجتماعی تبدیلی کی کونپل پھوٹے۔ اسلامی ادارے' مساجد اور اسلامی سماجی و فلاحی تنظیمیں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اگرچہ گاہے بگاہے کچھ تنظیموں کا قیام اس سلسلہ میں لایا گیا مگر عملی طور پر اخباری بیان یا سالانہ پروگرام کے انعقاد سے بڑھ کر کوئی خاطر خواہ کامیابی نظر نہیں آئی جس قوت سے اسلامی اقدار پر وار ہورہے ہیں اسی جذبے اور عزم کے ساتھ مثبت کردار انتہائی ضروری ہے۔ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اس معاشرے میں باوقار زندگی کے لئے اصلاحی' تربیتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فعال کردار ادا کریں اور اس سلسلہ میں سب سے اہم ذمہ داری علماء کرام' مشائخ عظام اور سیاسی رہنمائوں پر عائد ہوتی ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved