برطانوی انتخابات میں مسائل کے حل کیلئے مشترکہ حکمت عملی بنانی چاہیے،اوصاف فورم میں شرکاء کااتفاق
  20  اپریل‬‮  2017     |     یورپ
لوٹن (رپورٹ و میزبان :شیراز خان :انچارج اوصاف فورم )برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی جانب سے قبل از وقت عام انتخابات منعقد کروانے کے اعلان اور انتخابات میں پاکستان اور کشمیری کمیونٹی کو در پیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیسے اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے امیدواروں سے کمٹمنٹ لینی چاہیے؟ ان عنوانات پر بدھ 19اپریل کی شام ڈالو کمیونٹی سینٹر لیوٹن میں اوصاف فورم کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت صاحبزادہ پیر سلطان فیاض الحسن قادری نے کی۔اس موقع پر متعدد عمائدین کا کہنا تھا اسلامو فوبیا، پاکستان اور مسئلہ کشمیر ہماری کمیونٹی کے برطانیہ بھر میں سب سے اہم مسائل ہیں جن پر گہرائی سے بحث مباحثے کی ضرورت ہے تاہم تمام شرکا نے الیکشن میں ووٹ کی اہمیت کو زیادہ موثربنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی اورمشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ۔اس موقع پر فورم کے مہمان خصوصی پیر فیاض الحسن قادری نے کہا اسلام ایک امن اور سلامتی والا دین ہے ہمیں چاہیے کہ ہم یہ پیغام احسن انداز میں دنیا تک پہنچائیں کہ اسلام امن وسلامتی کا دین ہے تاہم اسلام اور مسلمان دو الگ چیزیں ہیں۔ مطلب اگر مسلمانوں کا کردار درست نہیں تو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیںکشمیر کی آذادی کیلئے صرف تقریروں سے کام نہیںچلے گا اپنی آنے والی نسل کو اچھی تعلیم و تربیت کے لئے تیار کرنا ہو گا الیکشن میں اگر کوئی پاکستانی و کشمیری امیدوار ہو اس کی ضرور سپورٹ کی جائے.جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان پروفیسر ظفر خان نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر کو دو ممالک کے درمیان ایک مسئلہ سمجھتی ہے ِحکومت کسی بھی پارٹی کی ہو ان کی فارن.پالیسی ایک جیسی ہوتی ہے لہٰذا ممبران آف پارلیمنٹ کو اپنے ووٹ کے ذریعے یہ بات ضرور باور کروائی جائے کہ مسئلہ کشمیر دو ممالک کے درمیان کوئی سرحدی تنازعہ کامسئلہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ 20 ملین کشمیریوں کی حق آذادی اور خود ارادیت کا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو بھی چاہیے کہ جوہمارا پشتی بان ہے کہ وہ اپنی کشمیر پالیسی کشمیر پر مرکوز رکھے اور اپنی فارن پالیسی کشمیری لوگوں کی آواز کے مطابق ترتیب دے.پرو فیسر مسعود اختر ہزروی نے کہا کہ اسلامو فوبیا اور دہشت گری کے حوالے سے مسلما نوں کے بے شمار مسائل ہیں ہمیں چاہیے کہ موثر حکمت عملی سے آگے بڑھیں ممتاز کشمیری رہنما نذیر قریشی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں ہمارے بہن بھائیوں کے حالات بہت خراب ہیں ہمیں اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کو کبھی بھی بھلانا نہیں چاہیے مسلم کانفرنس کے سیکرٹری جنرل ملک شبیر نے کہا ہم اپنے ممبران آف پارلیمنٹ سے بات کریں کہ وہ کشمیر کے حوالے سے مکمل سپورٹ کریں کونسلر طاہر ملک نے کہا لوٹن بارو کونسل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم.نے کشمیر کے مسئلہ پر باقاعدہ قرارداد منظور کی ہے اسرار احمد خان نے کہا کہ ہمیں اپنے مساہل کے حل کے لیے مثبت انداز میں اسٹرٹیجی بنانے چاہیے تاکہ ہمارے مسائل حل ہو سکیں کونسلر وحید اکبر نے کہا کہ ہمیں اپنے ایم پیز سے کمٹمنٹ لینی چاہیے اور پوچھنا چاہیے کہ آپ نے ہمارے مسائل پر کیاکام کیاہے کونسلر اسلم نے کہا ہم لوگ جہاں اکھٹے رہتے ہیں یہ ہماری ایک قوت ہے ہمیں اپنے مسائل کا جائزہ لے کر اپنی بات اپنے ایم پیز تک پہنچانی چاہیے سید عابد گیلانی نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینی چاہئے جے کے ایل ایف کے جنرل سیکریٹری سید تحسین گیلانی نے کہاکہ ہمیں چاہیے کہ سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کریں کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں اعجاز ملک نے کہا لوٹن میں مقامی مسائل کے حل کے لیے کونسلرز کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے کمان افسر نے کہا کہ ہم برطانیہ میں رہتے ہیں لیکن ہمارے دل کشمیر کے لیے دھرکتے ہیں ظفر احمد قریشی نے کہا 500 پاکستانی سیاست دان یوکے میں موجود ہیں لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا اور کوئی باہم یکجہتی سے کوئی ایجنڈا تشکیل نہیں دیا جاتا اس موقع پر راجہ یعقوب خان، صادق سبحانی نے کہ برطانیہ بھر میں 68حلقہ انتخاب سے ایسے جہاں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی اکثریت ہے ہمیں اپنے ووٹ سے اپنے نمائندگان کو یہ باور کروانا چاہیے کہ ہمارے مسائل کیا ہیں اور ان کے حل کے لئے ان سے وعدہ لینا چاہئے کہ اپ میرے مسائل کے حل کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں.سابق کونسلر فاضل ضیا نے کہا برطانیہ اگر یورپ سے نکل جاتا ہے تو مہنگائی اور نسل پرستی بڑھ جائے گی. بیرسٹر راجہ لطیف کا کہنا تھا اسلام فوبیا کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے رانا سرفراز کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مفادات کا برطانیہ میں تحفظ کیا جائے پاکستان کے استحکام اور کشمیر کی آزادی جتنی یہاں ہم یکجہتی دکھائیں گے اتنی ہی کامیابی حاصل ہو گئی نوجوان کشمیری رہنما اسرار خان نے بھی خطاب کیا فورم کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد یونس بٹ نے حاصل کی جبکہ نعت رسول مقبول پڑھنے کا شرف راجہ صوفی عجائب خان نے حاصل کیا جبکہ اوصاف لوٹن کے نمائندے کامران عابد بخاری بھی اس موقع پر موجود تھے فورم کے آخر میں اوصاف کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کہ ہمیں ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور اسلام، کشمیر اور مقامی مسائل کے لیے مل جل کر اپنی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے کہ بارے میں سب شرکا نے اتفاق کیا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved