پانامہ فیصلے کے بعدوزیراعظم نوازشریف کومستعفی ہوجاناچاہیے،ثمینہ علی
  21  اپریل‬‮  2017     |     یورپ

لندن (پ ر)پانامہ فیصلہ ، اصولی طور پر نواز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہیے واضح ہو گیا کہ جے آئی ٹی کے قیام کے پیچھے ایک بہت بڑی سوچ کا عمل دخل ہے.اگلا الیکشن پاکستان کی تاریخ کا دوسرا شفاف ترین الیکشن ہو گا.ثمینہ علی چیف آرگنائزر اے پی ایم ایل یوکے نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ بہت ہی اچھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج شام تک آپ کچھ اور بہتر خبر بھی سن لیں گے۔ یہ بات بہت صاف ہے کہ عدالت نے قانون کے تمام تر تقاضے پورے کرتے ہوئے مزید وقت دیا ہے ملزمان کو کہ وہ اپنے دفاع میں مضبوط شواہد دیں تاکہ فیصلہ انصاف کے مطابق دیا جائے۔ سات دن کے بعد کیا ہوگا وہ اصل فیصلہ ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے سب شواہد کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ یہ بہت بڑا قدم ہے۔ ن لیگ کے جشن کا مقصد صرف" کھسیانی بلی کھمبا نوچے" کے مترادف ہے۔ یہ بات واضح ہے کہJIT کے قیام کے پیچھے ایک بہت بڑی سوچ کا عمل دخل ہے۔ فوج کے ہاتھوں میں مضبوط اور مناسب طاقت دی گئی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے جبکہ سٹیٹ بنک اور دیگر ادارے جو اس انکوائری کا حصہ ہیں وہ مل کر ایک ایسا فیصلہ کریں کہ جو قوم و ملت کے ہاتھوں میں ایک بہت بہتر پاکستان دینے کی پوزیشن میں ہونگے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ سات دن بعد وزیراعظم کو نااہل قرار دینے میں عدالت کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ اس وقت ن لیگ کی تمام تر کوششوں کے باوجود فوج کو مارشل لا لگانے پر مجبور نہیں کیا جاسکا اور باقاعدہ طور پر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے کہ ایک قانونی طریقے سے اور آئینی اور جمہوری طریقے سے بہت بڑی تبدیلی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ سات دن بعد وزیراعظم کو نااہل قرار دینے میں اب عدالت کے پاس کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ نیا وزیراعظم بنے گا۔ انکوائری ٹیم دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کر کے عدالت کے لیئے آسانی پیدا کر دے گی کہ وہ نواز شریف کو نااہل قرار دے دے۔ اسی وقت حکومت نئے الیکشن کا فیصلہ کریں گے اور انٹیرم حکومت کا قیام ہوگا۔ اس وقت تمام تر قوت فوج کے ہاتھوں میں چلی جائے گی۔ فوج ایک بہترین ماحول میں الیکشن کا انعقاد کروائے گی۔ یاد رکھیں کہ اگلا الیکشن پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین الیکشن ہوگا۔ اس الیکشن میں برج الٹ جائیں گے اور ایک بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ پاکستان میں جمہوریت کے ذریعے سے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا جائے گا کہ آنے والے وقتوں میں ایک بہتر اور مناسب حکومت کا قیام ہوگا۔ ایک ایسی حکومت جو فوج کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی اور سالمیت کے لئے بہتر ماحول میں کام کر سکے گی۔ اس دور میں فوج کے زیر اثر بہت بڑی سطح پر احتساب ہوگا اور بڑے بڑے مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا. قوم و ملک کے تمام لوگوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کی باصلاحیت اور دوراندیشی پر مبنی قیادت پر اعتماد رکھیں اور ان کی سٹیٹس مین شپ کے اعلی معیار کے فیصلوں پر یقین رکھیں۔ ہمارے سپہ سالار نے مردم شماری مکمل کروا لی ہے جو اگلے الیکشن میں شفافیت کو یقینی بنانے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کی آڑ میں چھپے مافیا کو بھی ردالفساد کی مد میں سامنے لایا جائے گا اور مناسب وقت پر ان کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تاکہ کوئی بھی الیکشن پر اثرانداز نہ ہو سکے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں عوام اپنے ووٹ سے نہ صرف انقلاب لانے کی پوزیشن میں ہونگے بلکہ وہ اس ملک کی تقدیر بھی بدلنے کی استطاعت کے حامل ہو جائیں گے۔ یہی وقت ہے کہ جب قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ فوج کی کاوشوں کو اپنے بہتر اور قوی فیصلوں سے کیسے کامیاب بنانا ہے۔ اصل قوت کا سرچشمہ عوام ہیں اور عوام نے ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ فوج تو صرف ایک حد تک اپنا رول ادا کر سکتی ہے اور عوام کے لئے بہتر ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ اگر عوام ہر بار کی طرح اب بھی انہی لوگوں کو ووٹ دے گی تو پھر لوٹ مار کے وقت فوج کو آوازیں دینا غیر منطقی ہوگا۔ فوج نے آپ کے لئے میدان صاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ بھی اس گندگی سے ملک کو صاف کرنے کا فیصلہ کر لیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بحیثیت قوم صحیح فیصلہ کرنے اور اپنے لئے بہترین قیادت کے چنا کی صلاحیت عطا فرمائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved