جمعیت علمائے برطانیہ کے زیراہتمام کانفرنس20اگست کوہڈرزفیلڈمیں ہوگی
  11  اگست‬‮  2017     |     یورپ

ہڈرزفیلڈ (پ ر )جمعیت علمائے برطانیہ کے زیراہتمام "برطانیہ میں مسلمانوں کی ذمے داریاں" کے عنوان سے کنونشن 20 اگست بروز اتوار بعد ظہر دو بجے تا چار بجے جامع مسجد بلال ہڈرزفیلڈ میں زیر صدارت امام اہل سنت حضرت العلامہ ڈاکٹر خالد محمود سرپرست اعلی جمعیت علمائے برطانیہ ہو گا. جبکہ مہمانان خصوصی مانچسٹر سے ممبر آف پارلیمنٹ محمد افضل خان .اور بریڈ فورڈ سے ممبر آف پارلیمنٹ بیرسٹر چوہدری عمران حسین ہوں گے۔یہ فیصلہ بولٹن میں ہونے والے جمعیت علمائے برطانیہ کی مرکزی مجلس عاملہ کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا .مرکزی امیر جمعیت علمائے برطانیہ مولانا سید اسد میاں شیرازی کی زیر صدارت جامع مسجد ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ میں ہونے والا اجلاس حافظ محمد حبیب شاہ گیلانی اور قاری محمد عباس کی تلاوت قرآن سے شروع ہوا .جس میں مختلف شہروں سے جمعیت کے مرکزی عہدیداروں نے شرکت کی.اجلاس میں مرکزی عہدیداروں نے اپنی اپنی رپورٹ پیش کی جس پر شرکا نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جماعتی کام کو آگے بڑھانے اور مزید منظم کرنے کے لیئے ایجنڈے پر بحث کے بعد مزید کچھ فیصلے کیئے جن میں سے باقاعدگی کے ساتھ مرکزی عہدیداروں کے اجلاس مختلف شہروں میں رکھنے کے علاوہ سال 2017 کے باقی مہینوں میں اجلاسوں کی تاریخیں بھی طے کی گئیں.ان میں پہلا مخصوص پروگرام 20 اگست کو ہڈرزفیلڈ میں دن دو بجے ہو گا ، 21اکتوبر کو برمنگھم میں6بجے اور ، 23دسمبر کو اولڈھم میں بعد مغرب مرکزی عہدیداروں کے اجلاس ہوں گے. 20اگست کے کنونشن میں اراکین پارلیمنٹ.کونسلرز.پولیس افسران. مختلف مذاہب کے لوگوں.میڈیا کے نمائندوں .اور مسلمان تنظیموں کے ذمے داروں کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اس ملک کے استحکام اور تعمیر و ترقی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں.مقررین نے مسلم کمیونٹی پر واضح کیا کہ ہمارے بڑے اور ہم اس ملک میں پاسپورٹ کے ذریعے ویزہ لیکر آئے ہیں.اب جب مستقل سکونت اختیار کر کے گھر اور کاروبار سب کچھ یہاں بنا کر شہریت بھی حاصل کرچکے ہیں تو برطانیہ ہمارا ملک ہے .اور یہاںہمیں برابر کے تمام دینی و دنیاوی حقوق حاصل ہیں ویزہ لیتے اور شہریت حاصل کرتے وقت جو وعدے اور معاہدے ہم نے حکومت کے ساتھ کیئے ہیں ان کی از روئے اسلام پاسداری کرنا ہم پر لازم ہے مسلمان اپنے اچھے عمل سے اسلام اور مسلمانوں پر لگائے جانے والے ہر الزام کو غلط ثابت کردیں. اور سیاسی عمل میں شامل ہو کر بھرپور اپنا سیاسی کردار بھی ادا کریں. ہر قسم کی منفی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں. اجلاس میں مختلف قراردادوں کی منظوری بھی دی گئی جن میں مانچسٹر اور لندن اور دیگر مقامات پر ہونے والی دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کے ساتھ ان واقعات میں وفات پانے والوں اور زخمی ہو جانے والے شہریوں اور ان کی فیملیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا.مانچسٹر کے ٹیکسی ڈرائیوروں کی تعریف کے ساتھ ان کو شاباش دی گئی جنہوں نے دہشت گردی کے واقعہ کے بعد لوگوں کو مفت گھروں اور ہسپتالوں میں پہنچایا. برطانیہ میں مقیم مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے شہروں میں ہوم لس لوگوں کی ہر قسم کی مدد کریں اس حوالے سے جو ادارے پہلے کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ تعاون کو بڑھائیں. لندن کے فلائٹ میں رمضان میں ہونے والی آتشزدگی کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اجلاس میں گہری تشویش کے اظہار کے ساتھ لوگوں سے اپیل کی گئی کہ اپنی رہائش گاہوں میں ایمرجنسی سے فوری نمٹنے کے لئے ضروری آلات موجود رکھیں.اور کسی بھی قسم کی نقصان دینے والی چیزوں اور آگ پکڑنے والی اشیا ء پر خصوصی نظر رکھی جائے.حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جن شہروں میں ڈرگ مافیا کام کر رہاہے ان پر سخت ہاتھ ڈال کر اس برائی کو دوسرے شہروں میں منتقل ہونے سے روکنے کے اقدامات کئے جائیں .اس حوالے سے کمیونٹی کو بھی آگے آکر اپنا کردار کرنا چاہیے مختلف شہروں میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ میٹنگیں کرنے ان کی باتیں سننے اور اپنے خیالات ان تک پہنچانے کی اپیل تمام مسلمان لیڈروں سے کی گئی.عرب ممالک کی آپس میں جاری کشمکش پر گہری تشویش کااظہار اور مسلم امہ کے لیئے اسے سخت نقصان کاباعث قرار دیتے ہوئے جلد مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا.شام میں مسلمانوں پر جاری مظالم کی شدید مذمت کی گئی .تحفظ حرمین شریفین کے لیئے سعودی حکومت کی بھرپور تائید کرنے کا فیصلہ کیا گیا.پاکستان میں بعض ملکوں کی طرف سے جاری کھلی مداخلت اور ان کے خفیہ ٹریننگ سنٹروں کو پاکستان کی سالمیت کے خلاف گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی ملک کو دوسرے ملک کے معاملات میں چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے. مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کے ساتھ کشمیری قوم کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا.


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved