تھیلی سیمیاسے بچائوکیلئے نکاح سے قبل بلڈٹیسٹ کراناچاہیے،زاہدحفیظ
  27  اگست‬‮  2017     |     یورپ

لندن (اوصاف نیوز) دکھی انسانیت کی خدمت اور بچوں کی جانوں کو بچانے کی کوشش کرنا عظیم عبادت ہے' نکاح سے قبل بلڈ ٹیسٹ کرانے میں شاید معاشرتی اقدار رکاوٹ بنی ہوئی ہیں تاہم قوم کو اس افسوسناک صورت حال سے نکلنے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا' پاکستان میں تھیلی سیمیا کے موذی مرض میں ایک لاکھ سے زائد بچے مبتلا ہیں اور ہر سال ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اس تشویشناک صورتحال کو روکنے کے لئے حکومت کو مناسب قانون سازی کرنا ہوگی' شادی سے قبل بلڈ ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے شادی شدہ جوڑوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو تھیلی سیمیا ہوسکتا ہے' جو پاکستان میں نامناسب علاج کی وجہ ے پندرہ سولہ سال عمر تک پہنچتے ہی انتقال کرجاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ہائی کمیشن میں پاکستان پروفیشنلز ایسوسی ایشن انٹرنیشنل (PPA) اور کاشف اقبال تھیلی سیمیا کیئر سنٹر کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے ڈپٹی ہائی کمشنر زاہد حفیظ چوہدری نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ظفر خان نے کہا نکاح سے پہلے بلڈ ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے لئے قانون سازی نہ ہونے کو حکومت کی غفلت قرار دیا اور کہا کہ ایسی صورتحال میں تھیلی سیمیا سے جو بچے مرتے ہیں وہ دراصل قتل ہوتے ہیں اور اس کی ساری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر خان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم گزشتہ بائیس برس سے حکومت سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ اس بارے میں قانون سازی کی جائے تاکہ سب لوگ شادی سے پہلے بلڈ ٹیسٹ کرانے کے پابند ہوں۔ اس طرح یہ بھی محسوس نہیں ہوگا کہ کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تھیلی سیمیا مائز والے دو افراد کے درمیان شادی نہیں ہوگی تو پاکستان سے خود بخود یہ مرض ختم ہوجائے گا۔ کاشف اقبال تھیلی سیمیا سینٹر کے چیئرمین محمد اقبال نے کہا کہ انہوں نے اپنے سولہ سالہ بیٹے کاشف اقبال کی میت پر کھڑے ہو کر یہ عہد کیا تھا کہ وہ پاکستان سے تھیلی سیمیا کے خاتمے کے لئے جدوجہد کریں گے اور ہزاروں کاشفوں کو اس مرض کے منہ میں جانے سے بچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس گھر میں تھیلی سیمیا میجر والا بچہ پیدا ہوجائے وہ گھر تباہ ہوجاتا ہے۔ مریضوں کو ہر ہفتے خون لگتا ہے اور اس خون سے جسم میں جمع ہونے والے آئرن کو نکالنے کے لئے بھی ہزاروں روپے ماہانہ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ پاکستان کے غریبوں کے بچوں کا واحد سہارا کاشف اقبال سینٹر جیسے ادارے بنتے ہیں کیونکہ اس وقت حکومت کی طرف سے کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا گیا جو تھیلی سیمیا کے مریض بچوں کا علاج کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کے جسم میں آئرن کی مقدار سات ہزار ہوگئی تھی حالانکہ یہ مقدار 160 سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے آئرن نکالنا بھی بہت مہنگا ہے اور تھیلی سیمیا کے مریضوں کے ٹیسٹوں پر بھی بہت خرچہ آتا ہے۔ لوگوں کو اپنے بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کے لئے اپنے گھر تک بیچنے پڑ جاتے ہیں اور وہ سڑک پر آجاتے ہیں۔ یہ بات والدین کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ ان کے سینٹرز میں ہزاروں بچوں کا مفت علاج ہورہا ہے۔ انہیں ہر سال خون کی تیس لاکھ بوتلوں کے لئے پیسے درکار ہوتے ہیں ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ خود اس کو آگے بڑھا سکیں۔ اس لئے انہیں ہمیشہ مخیر افراد کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بچوں کی زندگیوں کو بچایا جاسکے۔ تھرڈ ورلڈ سالیڈیریٹی کے چیئرمین مشتاق لاشاری او بی ای نے کہا کہ تھیلی سیمیا مائنر بذات خود کوئی بیماری نہیں مگر اس کے دو کیریئرز کے درمیان شادی خطرناک ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود تھیلی سیمیا مائنر کے کیریئر ہیں اور آرام سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر ظفر خان اور محمد اقبال کے کام کی تعریف کی۔ بیرسٹر سلیم قریشی نے تھیلی سیمیا کے بارے میں ایک مقابلہ پیش کیا اور کہا کہ تھیلی سیمیا یورپ سے تقریباً ختم ہوگیا ہے بیس سال سے یورپ میں کوئی تھیلی سیمیا میجر کا کیریئر بچہ پیدا نہیں ہوا۔ پاکتان میں اگر اس بارے میں آگاہی مہم چلائی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ تھیلی سیمیا میجر میں مبتلا بچوں کی پیدائش کو نہ روکا جاسکے۔ کاشف اقبال سینٹر کی مریم اقبال نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایک لاکھ بچے تھیلی سیمیا میں مبتلا ہین اور ہر سال پانچ ہزار کا اضافہ ہورہا ہے جبکہ ہر سال سینکڑوں بے اس مرض کی وجہ سے انتقال کرجاتے ہیں۔ مریم اقبال کا کہنا تھا کہ اس مرض کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے حکومت کی سرپرستی ضروری ہے۔ انہوں نے سلائیڈز کی مدد سے کاشف اقبال تھیلی سیمیا سینٹر کراچی کی کارکردگی کے بارے میں بتایا اور کہا کہ اگر بچوں کو علاج کی مناسب سہولیات مل جائیں تو وہ ایک معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں اور ان کی زندگی کو بہت زیادہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ مگر موثر علاج نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی بڑی تعداد پندرہ سولہ سال کی عمر میں ہی انتقال کرجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سینٹر سے علاج کرانے والے تھیلی سیمیا کے بعض مریض آج خود ڈاکٹر بن گئے ہیں اور دوسرے شعبوں میں بھی کام کررہے ہیں۔ پی پی اے کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اجمل ملک نے کہا کہ کزن میرجز کی وجہ سے بھی تھیلی سیمیا کے مریض بچے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ یہ مرض بچوں میں والدین کے جینز کے ذریعے جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی اے اس مرض کو ختم کرنے کے لئے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کام کررہی ہے جبکہ ریحانہ جبار نے کہا کہ ھیلی سیمیا میں مبتلا بچے انتہائی کرب کا شکار ہوتے ہیں مگر ان کے والدین اس سے زیادہ بڑے کرب میں ہوتے ہیں۔ ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی انہوں نے کہا کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق ان بچوں کے لئے کام کررہی ہیں۔ دوسرے برٹش پاکستانیوں کو بھی اس کام کے لئے آگے بڑھنا چاہئے اس موقع پر کاشف اقبال کی روح کے ایصال ثواب کے لئے دعا بھی کرائی گئی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved