فوج کاکام ملک کادفاع ،سیاست میں ملوث نہیں کرناچاہیے،راجہ شبیر
  28  اگست‬‮  2017     |     یورپ

لیوٹن(پ ر) برطانیہ میں جمہوری نظام اور آئین و قانون کی بالا دستی ہے ہمیں بہ حیثیت برطانوی شہری فخر ہے کہ برطانیہ میں نہ تو کبھی مارشل لاء کی بات کی جاتی ہے اور نہ ہی جمہوری اداروں اور جمہوری نظام ڈی ریل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے معیشت کی مضبوطی اور ملک کی تعمیر و ترقی اور قانون کی بالا دستی کے لیے ادارے اور سیاست دان ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے ہیں ، برطانیہ میں تارکین وطن اور برطانوی شہریوں کو پاکستان سے آکر بعض لوگ پاکستان کے لیے مارشل لاء کا باشن دیتے ہیں جو غیر مناسب اور باعث تشویش ہے برطانیہ میں تارکین وطن با شعور اور جمہوریت پسند ہیں اور آئین و قانون کی بالا دستی کو تسلیم کرتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام اور آئین و قانون اور سویلین کی بالا دستی کو تسلیم کرنے کی بجائے ہمیشہ فوجی ڈکٹیٹروں نے آئین کو بار بار توڑا اور جمہوری نظام کو ڈی ریل کیا جس کے باعث ملک ترقی نہ کر سکا اور ملک کے سارے سسٹم کو تبا ہ کر کے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ،بلکہ ان آمروں کے باعث پاکستان نہ صرف دو لخت ہوا بلکہ پاکستان میں دہشت گردی ،اور کلاشنکوف کلچر کو پڑوان چرھایا اور آمروں کی باقیات کی نر سریاں قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔جو ملک و قوم کے لیے تکلیف کا باعث ہیں ،افواج پاکستان باصلاحیت فوج ہے لیکن یکے بعد دیگرے آمروں کے آنے سے افواج پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ، ہمیشہ ریاست کے فوج جیسے ادارے کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور ملک کے دفاع میں ہی کر سکتی ہے، فوج کو نہ تو ملکی سیاست میں کسی صورت ملوث نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کی کارکردگی پر منفی اثر پڑے۔ اور فوج کی ا صل ذمہ داری ملکی سرحدوں کی حفاظت ہی ہے، بالخصوص ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات سے ملکی مفادات کو پڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، عدلیہ اور فوج جیسے اہم اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے علا وہ پاکستان کے جمہوری نظام کو ڈی ریل کیا ، جس کے پاکستان میں ابھی تک اثرات موجود ہیں ان خیالات کا اظہار یورپ اینڈ ایشیاء ہیومین رائٹس کمیشن کے چیئرمین راجہ محمد شبیر خان نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کیا ،انھوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین و قانون اور رول آف لاء کی بالا دستی کی بجائے ذاتی پسند و نا پسند اور انتقام کا سہارا لیا جاتا ہے جو پاکستان کے عوام کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ احتساب کے نام پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کو انتقام کا نشانہ بنا کر ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں ۔ ملک کا عام شہری ہو یا سیاست دان جرنیل ،ججز یا بیوروکریٹس ہوں ،انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہیے صاف اور انصاف پر مبنی فیصلے ہونے چایئے ،بے انصافی اور انتقام کی بو کسی صورت نہیں ہونی چایئے مشرف جیسے بدنام زمانہ ڈکٹیٹر کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر عدلیہ کو آرٹیکل 6 کا دو بار مرتکب ہونے اور دیگر اہم مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی جائے تاکہ آئندہ کو ئی ایسا ڈکٹیٹر آئین کو توڑنے اور جمہوری نطام کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کرے ، جس سے پاکستان غیر مستحکم ہو اور ملکی و قومی مفادات کو نقصان پہنچے ۔ چیئرمین ہیومین رائٹس کمیشن راجہ محمد شبیر خان نے کہا کہ لیوٹن میں گزشتہ دنوں ایک منعقدہ کنونشن میں پاکستان کے سابق صوبائی وزیر اور ریٹائرڈ برگیڈئر سعید اختر کی تقریر پر دلی دکھ ہوا جس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک مارشل لا کی ضرورت ہے جس سے پاکستان میں سخت قسم کا احتساب ہو سکے ۔ بلکہ انھوں نے کہا کہ مجھے دوبار ووٹ دے کر پچھتاوا ہوا لیکن وہ یہ بھول گئے کہ بغیر ووٹ کے جو ڈکٹیٹر آئے انھوں نے ملک کو تباہ کیا، ملک ترقی کی بجائے پسماندگی کی طرف گیا عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا،انھوں نے کہا کہ پاکستان سے جو بھی سیاست دان یا ریٹائرڈ افیسر یا ریٹایرڈ جرنیل جو بھی تشریف لائیں ہمارے لیے قابل عزت ہیں لیکن غیر جمہوری اقدامات اور مارشل لاء جیسے اقدامات کی تائید نہ کریں اور نہ ہی ان باشعور اور جمہوریت پسند تارکین وطن کو غلط قسم کے اقدامات پر امادہ کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ چیئر مین ہیومین رائٹس کمیشن نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر اور ان کی حکومت خطہ کشمیر کے لیے تعمیر و ترقی اور تحریک آزادی کشمیر کی اقدامات اور کوششیں لائق تحسین ہیں ۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت اس بات پر متفق ہیں کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری قیادت اور کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھے اور ان کے بنیادی حقوق سلب نہ کرے اور ظلم و بربریت کا بازار بند کرے۔ کشمیری قیادت کو بار بار قید و بند کی بجائے ان کی شخصی آزاد ی اور مذہبی حقوق کا خیال رکھے ۔ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی بجائے بلیم گیم پر یقین رکھتا ہے اور اس سے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ چیئر مین ہیومین رائٹس کمیشن نے اقوام متحد ہ اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطا بق اور بین القوامی قانون کے تحت بھارت کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور کشمیریوں کو ان کا حق آزادی دیا جائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved