یوکے پی سی سی آئی کا پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے کردارقابل ستائش ہے،سیدابن عباس
  28  اگست‬‮  2017     |     یورپ

لندن(اوصاف نیوز) برطانیہ میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کر رہے ہیں اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت اور کاروبار کو مزید فروغ دینے کیلئے متعدد مواقع میسر ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔ برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی نہ صرف برطانیہ میں بلکہ اپنے آبائی ملک پاکستان کی ترقی کے لئے ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ برطانیہ میں پاکستانیوں نے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یو کے پی سی سی آئی نے اپنے وطن پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ان خیالات کا اظہار ہائی کمشنر پاکستان سید ابن عباس نے بطور مہمان خصوصی یو کے پی سی سی آئی کے زیر اہتمام پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے چیمبر کے نومنتخب ڈائریکٹر اور نئے صدر کو بھی مبارکباد بھی پیش کی۔ اس موقع پر چیمبر کے نومنتخب صدر حاجی چوہدری محمد صدیق نے اپنے خطاب میں چیمبر کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یو کے پی سی سی آئی کا قیام 1979 میں عمل میں لایا گیا اور یہ تنظیم برطانیہ اور پاکستان کی حکومتوں سے تسلیم شدہ ہے۔ اپنے مخلص ارکان اور ایگزیکٹو کمیٹیوں کی مسلسل کوششوں کی بدولت یہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ یو کے پی سی سی آئی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز مختلف شعبوں اور صنعتوں سے تعلق رکھنے والے بزنس پروفیشنلز پر مشتمل ہے جو سب برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے مرکزی مقصد کے تحت سرگرم عمل ہیں۔ چیمبر کے انتظامات ڈائریکٹرز کی پروفیشنل ٹیم چلا رہی ہے اور صدر کی زیرقیادت ارکان کے اجلاس باقاعدگی کے ساتھ لندن میں واقع ہیڈ آفس میں ہوتے ہیں۔ چیمبر دورے پر آنے والے وزرائ، سینئر بیوروکریٹس، بزنس پروفیشنلز اور کامیاب نوجوانوں کے لئے نیٹ ورکنگ کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ یو کے پی سی سی آئی باقاعدگی کے ساتھ سمندرپار وفود اور حکومتی عہدیداروں کے لئے تقریبات کا انعقاد کرتا ہے اور سمندرپار پاکستانی بزنس کمیونٹی کے ساتھ تجارت کی راہ ہموار کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کا کام دیتا ہے۔ یو کے پی سی سی آئی خاطرخواہ حد تک ترقی کی منازل طے کر چکا ہے اور اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ برطانیہ کی وسیع بزنس کمیونٹی اس کی معترف ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز، چیمبر کے مقاصد کے حصول کے لئے پرعزم ہے اور مستقبل میں ان مواقع کو مزید بڑھانے کے لئے پرامید ہے۔چو ہد ر ی محمد صد یق نے مز ید کہا کہ ہمارا اولین مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کا فروغ ہے اور اس مقصد کے لئے مربوط منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ہم ایک تجارتی وفد نومبر پاکستان لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں آباد پاکستانیوںکی بڑی تعداد اپنے وطن میں سرمایہ لگانا چاہتا ہے لیکن انہیں پتہ نہیں چلتا کہ کس شعبہ میںمنافع بخش سرمایہ کاری ممکن ہے۔ انہوںنے کہا کہ لندن کے علاوہ مانچسٹر، برمنگھم، گلاسگو اور دیگر شہروں سے بھی لوگ تجارتی وفد کے ہمراہ پاکستان بچانے کے لئے اپنی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وفد کراچی میں ہونے والی ایکسپو میں شرکت کرے گا۔ اس کے علاوہ وفد لاہور اور اسلام آباد کے چیمبرز کا دورہ بھی کرے گا اور اس طرح انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے دستیاب مواقع کے بارے میں درست اندازہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اس کاوش کے سبب توقع ہے کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوگی۔ حاجی محمد صدیق نے کہا کہ ہم پاکستان جانے والے تجارتی وفد میں شرکت کے لئے مقامی کمپنیوں کے نمائندوں کو بھی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کی رکنیت سازی بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اب تک تین سو نئے رکن بن چکے ہیں جبکہ برمنگھم میں چیمبر کا چیئر قائم کردیاگیا اور مانچسٹر، بریڈ فورڈ اور گلاسگو میں بھی جلد نئے چیئر قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ چیمبر کے لئے اراکین میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو اپنے وطن کی ترقی کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ حاجی محمد صدیق نے کہا کہ چیمبر کے اراکین کو کارڈ بھی جاری کئے گئے ہیں جس کے کافی فوائد ہیں۔ اراکین کو پاکستان جانے کی صورت میں ہوٹل میں قیام کی صورت میں رعایت ملے گی جبکہ برطانیہ میں مخصوص ریسٹورنٹس، سپر سٹورز، کارگو، گاڑی خریدنے، انشورنس لینے کا سولیسٹر کی خدمت حاصل کرنے پر 15سے 20فیصد رعایت ملے گی۔ حاجی محمد صدیق نے کہا کہ ہم برطانیہ بھر میں قائم پاکستانی تنظیموں کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ہمارا مقصد پاکستان کی ترقی ہے۔ نائب صدر سید اسد حسین، جوائنٹ سیکرٹری طاہرہ بٹ، کمپنی سیکرٹری جہانزیب انیس، چیئرمین بورڈ ۔۔۔۔۔۔page 2۔۔۔۔۔ عاصم یوسف، خازن ماجد خان اور دیگر نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بعض افراد کو نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ بعض افراد نے زمین خریدی لیکن انہیں قبضہ نہیں ملا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ لے کر جائیں گے تاکہ کشکول ٹوٹے اور بزنس کو فروغ ملے۔ چند افراد نے کہا کہ ان کے پاکستان میں بزنس کا تجربہ کامیاب رہا ہے وہاں منافع کی شرح خاصی بلند ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سیاسی حالات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ بیرسٹر میاں وحید الرحمٰن نے کہا کہ کمیونٹی کو ایک شکایت رہی ہے کہ انہیں اپنے وطن میں سرمایہ کاری کے حوالے سے آگاہی فراہم نہیں کی جاتی۔ بعض افراد نے اپنے طور پر جاکر سرمایہ لگایا لیکن انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن اب چیمبر کے فعال فورم موجود ہیں جو ان کی مناسب رہنمائی کرے گا۔ بزنس مین امجد خان نے کہا کہ ہمارے تجارتی وفد کے پاکستان جانے سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع سامنے آئیں گے اور توقع ہے کہ پاکستان میں نئے منصوبے شروع ہوں گے۔ جن سے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے بزنس کمیونٹی کے افراد تجارت کے فروغ کے لئے برطانیہ بھی آئیں گے۔ تقریب میں چیمبرز کے ڈائریکٹرز عدنان ظہیر، شاہد اختر، سردار شفقت خان، شاہد مرزا، پروفیسر شفیع اور راشد خان بھی شریک تھے۔ جنرل سیکرٹری کامران خان اپنی نجی مصروفیات کے سبب شریک نہیں ہوسکے۔ واضح رہے کہ چیمبر کے عہدیداران کاانتخاب ایک برس کے لئے ہوتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved