ملک غلام مصطفی کادورہ برطانیہ،بیرسڑامجدکی تیزرفتارسماعت کی عدالتیں قائم کرنے کی تجویز
  29  اگست‬‮  2017     |     یورپ

را چڈ یل ( پ ر )رکن پاکستان بار کونسل اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ملک غلام مصطفی کنڈیوال نے 29 اگست کو چیئرمین ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز یو کے سے ان کے راکڈیل چیمبرز میں ملاقات کی۔ دونوں نے باہمی دلچسپی کے امور اور پاکستانی تارکین وطن کو کرپشن اور اراضی کی ضبطی سے متعلق ان کی شکایات سے نجات دلانے اور پاکستان میں تیزرفتار طریقے سے وطن واپسی میں مدد دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیالات کیا۔ بیرسٹر امجد ملک نے ہائی کورٹ اور ضلعی سطحوں پر وقت کی پابندی سے مشروط ون ونڈو آپریشن اور اراضی کی ضبطی کے مقدمات کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے قومی عدالتی پالیسی پر ہونے والے نئے مذاکرات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے تیز رفتار سماعت کی عدالتیں قائم کرنے، تارکین وطن کے سول مقدمات چھ ماہ کے اندر تین سماعتوں میں نمٹانے اور صرف انتہائی فوری نوعیت کے معاملات میں التواء کے علاوہ ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کو تارکین وطن کے مفادات کی نمائندگی کرنے کی تجویز پیش کی۔ دونوں نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی، انصاف، ہر سطح پر مکمل احتساب اور عمدہ طرزحکمرانی اور جمہوریت کے ساتھ آئین پسندی کے لئے اپنی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے موقف کا اعادہ کیا جس میں وکلاء کو بنچ اور بار کی ٹیم کی شکل میں قانون کی حکمرانی کے تحفظ اور فروغ کے لئے عظیم تر کردار ادا کرنا ہے۔ ملک غلام مصطفی کنڈیوال کو برطانیہ اور پاکستان کی بارز کے درمیان سازگار ماحول کو فروغ دینے اور روابط کا سلسلہ جاری رکھنے میں مدد دینے کے لئے دورے کی دعوت دی گئی تھی تاکہ بہتر افہام وتفہیم کا ماحول پیدا کیا جا سکے اور ایسے مثالی کردار سامنے لائے جا سکیں جن کی کامیابیاں دوسروں کے لئے مثال بن جائیں۔ بیرسٹر امجد ملک نے ایڈووکیٹ غلام مصطفی کنڈیوال کو پاکستان میں بار اور پیشہ وکالت کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں 'پلیک' دیا۔ دریں اثناء فنانس اینڈ ویلفیئر کمیٹی کا 141 واں اجلاس 28 اگست کو منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین او پی ایف بورڈ آف گورنرز بیرسٹر امجد ملک نے کی۔ اجلاس میں او پی ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر حبیب الرحمان گیلانی، جوائنٹ سیکرٹری وزارت سمندرپار پاکستانیز منظور کیانی، آڈیشنل سیکرٹری وزارت امور خارجہ شاہ جمال اور او پی ایف کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی نے 5 جولائی کو منعقد ہونے والے فنانس اینڈ ویلفیئر کمیٹی کے 140 ویں اجلاس کی کارروائی کا جائزہ لیا۔ ایجنڈا کے مرکزی نکات میں او پی ایف آئی ہسپتال میرپور، او پی ایف اور مسلم ہینڈز (بین الاقوامی امدادی تنظیم اور این جی او) کے درمیان مفاہمت کی یادداشت، لیبین سوشل سکیورٹی فنڈ، فنانشل ایڈ سکیم کے مطلوبہ معیار میں رعایت، پائلٹ پراجیکٹ، واپس آنے والے پاکستانی کارکنوں کے لئے ری انٹیگریشن سنٹر کا قیام اور لو پاور فیکٹر (ایل پی ایف) کے سلسلے میں 5.908 ملین روپے مالیت کے اخراجات کی ریگولرائزیشن شامل تھے۔ کمیٹی کی طرف سے کئے گئے بعض اہم فیصلوں کے مطابق فنانس ڈویژن کی ری سٹرکچرنگ پر اتفاق کیا گیا، جس کے بارے میں سی ایف او کو مطلع کیا جائے گا اور ان سے مشاورت کی جائے گی جبکہ آڈٹ اینڈ ایچ آر کمیٹی کو مطلع کیا جائے گا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ویلفیئر اینڈ سروسز نے کمیٹی کو ون ونڈو آپریشن، او پی اے سی اور دیگر فلاحی خدمات کے بارے میں آگاہ کیا۔ آئی ہسپتال کی سرگرمیوں پر تفصیلی گفتگو کے بعد طے کیا گیا کہ کسی تنظیم کے ساتھ معاہدہ کرنے سے پہلے مزید غوروخوض کی ضرورت ہے اور سات دن کے اندر معاملہ باقاعدہ طور پر پیش کیا جائے۔ لیبین فنڈ کے حوالے سے طے کیا گیا کہ ممکنہ دعویداروں کو متنبہ کرنے کے لئے اشتہار جاری کر دیا جائے۔ چیئرمین نے ویلفیئر ایمبولینس سروس کے عملہ کی کوششوں کو سراہا۔ ری انٹیگریشن کے خیال سے اصولی طور پر اتفاق کیا گیا لیکن ری انٹیگریشن سنٹر او پی ایف کی عمارت کے اندر بنایا جائے گا۔ پنجاب او پی سی کے ساتھ مزید کوآرڈی نیشن کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ کارپوریٹ بزنس سٹریٹجی اورپلان کے حوالے سے کمپنی سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ کارپوریٹ بزنس سٹریٹجی اور پلان پر انتظامی کارروائی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ گفتگو کے بعد طے کیا گیا کہ او پی ایف روڈمیپ کی تیاری پر اٹھنے والے اخرجات کے فنڈز کی فراہمی کے لئے مختلف عطیہ دینے والوں سے رابطہ کرے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved