کارپوریٹ گورننس کے نئے قوانین،لیبرپارٹی اورٹریڈیونینوں کی تھریسامے پرتنقید
  29  اگست‬‮  2017     |     یورپ

لندن( اوصا ف نیو ز )لیبر پارٹی اور ٹریڈ یونینوں نے وزیراعظم ٹیریسا مے پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے کارپوریٹ زیادتی سے نمٹنے کے منصوبوں کا ''پتا پانی نکال دیا'' ہے۔ حکومتی اصلاحات کے تحت برطانیہ کی بڑی فرموں کو بتانا ہو گا کہ ان کے چیف ایگزیکٹوز کی تنخواہ اوسط کارکن کے مقابلے میں کتنی زیادہ ہے۔ کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اپنے بورڈ میں کارکنوں کی آواز کو نمائندگی دیں۔ لیکن یونینوں نے ان منصوبوں کو ''نحیف'' قرار دیا ہے جبکہ لیبر پارٹی نے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ حکومت نے پبلک لسٹڈ کمپنیوں میں بورڈروم کی سطح پر شفافیت بڑھانے کے اقدامات جاری کر دئیے ہیں۔ بزنس سیکرٹری گریگ کلارک کے مطابق ان تبدیلیوں کی بدولت فرمیں ''اپنے ملازمین اور حصص داران کے سامنے زیادہ جوابدہ'' ہو جائیں گی۔ جون 2018 سے نافذ ہونے والے کارپوریٹ گورننس کے نئے قوانین کے تحت نو سو کے لگ بھگ پبلک لسٹڈ کمپنیوں کو باسز اور کارکنوں کے درمیان تنخواہ کے تناسب کو سامنے لانا ہو گا۔ برطانیہ کی سو بڑی لسٹڈ فرموں کے باسز کی اوسط آمدنی گزشتہ سال 4.5 ملین پائونڈ رہی اور بالعموم انہوں نے اپنی فرموں کے اوسط ملازمین کے مقابلے میں 129 گنا زیادہ کمایا۔ کنزرویٹو پارٹی نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ ایگزیکٹوز کی تنخواہ کی منظوری حصص داران کے سالانہ ووٹ کے ذریعے دی جائے۔ تاہم نئے اقدامات میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایسی پبلک کمپنیاں جنہیں تنخواہوں کے معاملے میں حصص داران کی بغاوت کا سامنا ہے ان کے نام انوسٹمنٹ ڈویژن کی زیرنگرانی ایک رجسٹر میں درج کئے جائیں گے۔ بی بی سی کے بزنس ایڈیٹر سائمن جیک کے مطابق حکومت نے کاروباری اداروں کی لابی سرگرمیوں کے پیش نظر ان منصوبوں کا پتا پانی نکال دیا لیکن یہ عمل پسندی پر مبنی بھی ہیں اوران میں قانونی مسائل بھی ہیں۔ چند روز قبل ٹیریسا مے نے باسز کو بہت زیادہ تنخواہیں دینے والی فرموں کو یہ کہتے ہوئے ہدف تنقید بنایا کہ یہ ''سرمایہ دارانہ نظام کا ناقابل قبول رخ'' ہے۔ 'میل آن سنڈے' میں اپنی ایک تحریر میں ان کا کہنا تھا کہ بعض چیف ایگزیکٹوز کی زیادتیاں ہمارے ملک کی سماجی اساس کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ کاروباری اداروں کو یقینی بنانا ہو گا کہ لسٹڈ کمپنیوں کے عملے کو بورڈ کی سطح پر بہتر نمائندگی حاصل ہو جس کے لئے وہ یا تو اپنے کارکنوں کو ڈائریکٹر نامزد کرنے کی اجازت دینے کے لئے ایک ایمپلائی ایڈوائزری کونسل تشکیل دیں گی یا افرادی قوت کی نمائندگی کے لئے ایک نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو زمہ داریاں سونپیں گی۔ یہ شرط یو کے کارپوریٹ گورننس کوڈ میں شامل ہو گی جو ''پاسداری کریں یا وضاحت کریں'' کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ ٹیریسا مے نے گزشتہ جولائی میں کنزرویٹو پارٹی لیڈر کے لئے اپنی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ کمپنیوں کو بورڈ میں ملازمین کا نمائندہ شامل کرنے پر مجبور کریں گی۔ تاہم نومبر میں وہ اس سے پیچھے ہٹ گئیں اور کہا کہ کاروباری اداروں کو اس اقدام پر عملدرآمد کا پابند نہیں کیا جائے گا۔ لیبر پارٹی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کارکنوں کا نمائندہ رکھنے کے اصل وعدے کا ''پتا پانی نکال دیا'' ہے۔ لیبر کی شیڈو بزنس سیکرٹری ریبیکا لانگ بیلے نے کہا کہ ''ان باتوں کو آسانی سے ووٹ سے ہرا دیا جائے گا یا نظرانداز کر دیا جائے گا''۔ ٹی یو سی کی جنرل سیکرٹری فرانسز او گریڈی نے کہا کہ حکومتی اصلاحات ''نحیف'' ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ''صرف ایک سال پہلے وزیراعظم نے بار بار بزنس کی بنیادی اصلاحات کے وعدے کئے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عوام کے اندر بورڈ روم کی حرص، ٹیکسوں سے گریز اور کام کرنے کے استحصالی طریقوں پر حقیقی تشویش پائی جاتی تھی۔ لبرل ڈیموکریٹس کے لیڈر ونس کیبل نے کہا کہ ٹیریسا مے کی بڑی بڑی باتیں اور نئے کمزور قوانین ایک دوسرے کا الٹ ہیں۔ زیادہ تر نئے اقدامات جہاں صرف پبلک لسٹڈ کمپنیوں پر لاگو ہوں گے وہیں حکومت نے فنانشل رپورٹنگ کونسل سے کہا ہے کہ وہ بڑی نجی کمپنیوں کے لئے کارپوریٹ گورننس کے اصولوں کا ایک رضاکارانہ سیٹ تیار کرے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved