شمالی کوریاپرمزیداقتصادی پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے،تھریسامے جاپان پہنچ گئیں
  30  اگست‬‮  2017     |     یورپ

لندن (تجزیہ :شیراز خان ) برطانوی وزیراعظم ٹریسامے اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر جاپان پہنچ گئی ہیں وزیراعظم کا موجودہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نارتھ کوریا نے میزائل جاپان پر فائر کیا ہے اور اس پورے ریجنز میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور نیوکلیئر جنگ کے خطرات کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیں جاپان کے شہر Kyoto پہنچنے پر ٹریسا مے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نارتھ کوریا پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے انہوں نے چین پر زور دیا ہے کہ چین نارتھ کوریا کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرے برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے جب ان سے تین بار یہ سوال کیا گیا کہ اگر نارتھ کوریا پر حملہ کیا گیا تو کیا برطانیہ اس ملٹری ایکشن یا حملے کا حصہ بنے گا تو ٹریسا مے نے ہاں یا نہیں میں کوئی جواب نہیں دیا لیکن برطانیہ امریکہ کا اتحادی ملک ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ امریکہ نے اگر نارتھ کوریا کے خلاف فوجی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا تو برطانیہ اپنے آپ کو اس جنگ سے دور نہیں رکھ پائے گا اگرچہ یورپین یونین چھوڑنے کے بعد برطانوی معیشت اور حالات ایسے نہیں ہیں کہ برطانیہ کسی جنگ کا متحمل ہو سکے لیکن برطانیہ کے امریکہ کے ساتھ سپیشل ریلشنز ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں ٹریسا مے کی موجودگی میں ان سپیشل ریلشنز کا تجدید عہد بھی کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک ان سپشل ریلشنز کو آگے بڑھاتے ہی رہیں گے ۔برطانوی وزیراعظم جاپان کا ایک ایسے وقت میں دورہ کررہی ہیں جب برسلز میں یورپین یونین چھوڑنے کے بارے میں طریقہ کار اور شرائط طے کرنے کے بارے میں مزاکرات کا تیسرا دور جاری ہے اور معاملات پیچیدہ اور صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ یورپین یونین کے جان جینکر نے کہا ہے کہ برطانیہ بریگزٹ پر سنجیدگی دکھائے جب کہ برطانوی سکریٹری ڈیوس ڈیوس یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ مزاکرات میں سخت دشواری ہے چونکہ برطانیہ جو ڈیل چاہتا ہے وہ مشکل دکھائی دیتی ہے ان حالات میں برطانوی وزیراعظم کا دورہ جاپان نہایت اہم ہے چونکہ ٹریڈ اور تجارت کے معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں جاپان اس وقت برطانیہ میں کار انڈسٹری میں سب سے آگے ہے وزیراعظم ٹریسامے جب وزیر داخلہ تھیں تو انکی امیگریشن پالیسی انٹی مائیگریشن تھی اس وقت یورپ سے مائیگریشن کم ہوگئی ہے چونکہ یورپین باشندوں کا یہاں مستقبل زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتا برطانیہ کو عنقریب ٹرینڈ نرسوں اور ڈاکٹروں کی سخت ضرورت ہوگی برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں طلبا کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے ٹریسا مے کا یہ تین روزہ دورہ برطانوی شہریوں اور اپوزیشن جماعتوں کے لئے بھی بہت اہم ہے کہ وہ اس میں کتنی کامیاب ہوتی ہیں اس وقت حکمران جماعت کنزرویٹو کے اندر بھی ٹریسامے پر انکے بعض فیصلوں کی وجہ سے سخت دبائو ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے اکتوبر2019 میں وزرات عظمی چھوڑنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے یہی وہ پریشر ہے جو ٹریسامے کی بحیثیت وزیراعظم پرفارمنس پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے برطانیہ میں اس سال سیاحوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے چونکہ پے در پے دہشت گردوں نے حملے کیے ہیں لیکن سب سے زیادہ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف برطانوی شہریوں خاص کر کے مسلمانوں کا کردار لائق تحسین ہے جنہوں نے ہر مقام پر دہشت گردی کی مزمت کی ہے اور اپنی حکومت کو ہرقسم کے تعاون کا یقین دلایا ہے برطانیہ کے ادارے مضبوط ہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ بریگزٹ کے بعد جو یہاں حالات خراب ہوئے ہیں ان پر قابو پالیا جائے گا پاکستان اگر چاہے تو برطانیہ سے تجارت اور ٹریڈز کے معاہدے کرسکتا ہے خاص کرکے طلبا وطالبات یہاں کی یونیورسٹیوں میں بھیج سکتا ہے برطانوی حکومت کے ساتھ ایسا طریقہ کار وضع کیا جاسکتا ہے کہ جو طلبا و طالبات برطانیہ آئیں گے وہ صرف تعلیم کے حصول کے لئے آئیں گے پاکستان سے جو طلبا و طالبات برطانیہ آ نے کے خواہشمند ہیں انھیں اس لئے ویزہ نہیں مل رہا ہے کہ ان سے پہلے آنے والوں کی اکثریت نے یہاں آنے کے بعد پڑھنے ڈگری مکمل کرنے کے بجائے ویزہ لے کر یہاں جائز ناجائز کام کو ترجیح دی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved