برطانیہ میں ایک ہی دن عیدکرکے کمیونٹی نے یکجہتی کاپیغام دیا،علامہ سجاد
  3  ستمبر‬‮  2017     |     یورپ

نا ٹنگھم (پ ر )اس دفعہ برطانیہ میں عیدالاضحی ایک ھی دن کرکے اسلامی کمیونٹی نے اجتماعیت اور یکجہتی کا پیغام دیا جس کی بالخصوص عیدالفطر کے بعد سے شدید ضرورت محسوس کی جارھی تھی۔ جمعہ اور عید کے اکٹھے ھونے سے مزید روحانی بالیدگی اور باطنی جمال کے اثرات مرتب ھوئے۔ اھل اسلام نے حسب روایت عید کے اجتماعات اور پھر جمعہ کی نماز میں بھر پور شرکت کرکے دینی جوش وجذبہ اور اطاعت باری تعالی کا ثبوت دیا۔ نوٹنگھم کی سب سے بڑی اور مرکزی جامع مسجد جو نہ صرف تعمیری حسن کی اعتبار سے بلکہ افرادی وسعت اور گنجائش کے اعتبار سے اس شہر کے مسلمانوں کے لئے قلب کی حیثیت رکھتی ھے' اس موقع پہ کھچا کھچ بھری ھوئی تھی اور اھل محبت کا جم غفیر اپنے معبود حقیقی کے حضور سربسجود ھونے کیلئے حاضر بارگاہ تھا۔ یہ مرکزی جامع مسجد جو عام طور پہ اسلامک سنٹر نوٹنگھم کے نام سے معروف ھے' بقعہ رنگ و نور بنے رب کے مہمانوں کو آغوشِ رحمت میں لئے ' سامان کیف و سرور مہیا کررھی تھی۔ خطیب مسجد' معروف دینی سکالر علامہ محمد سجاد رضوی نے عید الاضحی اور بعد ازاں جمعہ کے موقع پہ قربانی' تکمیل دین اور حجتہ الوداع کے حوالے سے مدلل خطاب کیا۔ اور آنحضرت ۖ کی نبوی بصیرت نیز آپ کے علمی مرتبہ عظیمہ کی رعنائیوں کا تذکرہ کرتے ھوئے کہا کہ جن انسانی حقوق کا ڈھنڈورا آج اس زمانے میں عالمی قوتیں پیٹ رھی ھیں' رب ذوالجلال کے کریم محبوب ۖ نے تقریبا پندرہ سو سال پہلے میدان عرفات میں اپنی زبانِ اقدس سے اس کائنات کے لوگوں کو عطا فرما دئیے ۔ آپ ۖ نے رنگ ونسل اور مکانی حدود و قیود کی بنا پہ امتیازات کے خاتمے کا اعلان کرتے ھوئے تقوی اور پرہیزگاری کو معیارِ فضیلت قرار دیا۔ عورتوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا حکم دیا۔ انسانی عزت' خون اور وقار کی حرمت اور احترام کا بطور خاص ذکر کیا کہ قیامت تک یہ خطبہ "انسانی حقوق کی دستاویز " کے طور پہ ہر قانون دان اور قانون ساز کے لئے بنیاد فراہم کرتا رھے گا۔ علامہ محمد سجاد رضوی نے حاضرین پہ زور دیا کہ انسانی عظمت کی معراج کو پانے کے لئے اسوہ حسنہ پہ عمل کرنا ضروری ھے۔ اسی سے ھمارا پریشان حال اور آزردہ خاطر معاشرہ عافیت اور امن کی شیرینی پا سکتا ھے۔ دور حاضر میں امت مرحومہ کے مسائل کا ذکر کرتے ھوئے انھوں نے برما اور کشمیر کے مسلمانوں کا بطور خاص تذکرہ کیا اور روہنگیا کے مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے خلاف ھونے والی درندگی کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اس دینی پلیٹ فارم سے انٹرنیشنل برادری کو پیغام دیا کہ جہاں بلی کتے اور چرند پرند کی ہلاکت پہ ہمدردی کے جذبات امڈتے دکھائی دیتے ھیں اسی دور میں جیتے جی انسانوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جانے اور مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہانے پہ ایک آواز بھی اس بربریت و وحشت کے خلاف بلند نہیں ھوئی۔ یوں محسوس ھوتا ھے کہ عالمی اور بالخصوص عالمی اسلامی ضمیر گہری نیند سو رھا ھے۔ حاضرین نے اس بیان کی مکمل تائید کی اور اس ظلم کے خلاف اپنی بیداری کا ثبوت یک زبان حمایتی کلمات سے کیا۔ آخر میں امت مسلمہ کی ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔ عیدالاضحی کا منظر واقعتا قابل دید اور روحانی رعنائیوں سے لبریز تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved