میڈیاکوبرمامیں مسلمانوں پرتشددکیوں نظرنہیں آرہا،قاری عبدالرشید
  3  ستمبر‬‮  2017     |     یورپ

اولڈھم (پ ر )روہنگیا کے مسلمانوں پر برما کی فوج کے جنگل کے درندوں کو بھی شرما دینے والے مظالم پر اگر زمین پھٹ جاتی اور آسمان پتھر برسا دیتا تو حق ھوتا .ان خیالات کا اظہار سواد اعظم اہل سنت والجماعت کے ناظم اعلی مولانا قاری عبدالرشید نے 'روہنگیا ' کے نہتے مظلوم مسلمانوں پر ھونے والے 'برمی'فوج کے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ھوئے کیا .ان کا کہنا ھے کہ سوات میں ایک جعلی ویڈیو میں ایک لڑکی کو کوڑے مارے جانے کے مناظر دکھا کر ساری دنیا کے میڈیا نے زمین و آسمان کے فاصلے مٹا چھوڑے تھے.لیکن آج اسی میڈیا کو روہنگیا کے مسلمانوں پر جاری تشدد و بربریت کی انسانیت کو شرما دینے والی دہشت گردی نظر کیوں نہیں آ رھی؟ قاری عبدالرشید نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ کون سا ظلم ھے جو ان مظلوموں پر نہیں ڈھایا جارھا مقام صد افسوس ھے کہ انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والے ممالک اور ان کے حکمرانوں کو روہنگیا کے بچوں عورتوں جوانوں اور بوڑھوں پر ھونے والی یہ دھشت گردی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کیوں نظر نہیں آتی؟امت مسلمہ کے ان کمزور ترین لوگوں پر تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا ظلم دیکھ کر جو مسلمان حکمران ان کی مدد نہیں کر رھے وہ بھی در حقیقت ظالم و دہشت گرد برمی فوج کا خاموش ساتھ دے رھے ھیں اور عذاب الٰہی کو اپنے اپنے ملکوں میں دعوت دے رھے ھیں.ان مظلوموں کی چیخیں آہیں اور دعائیں پتہ نہیں کس وقت رب کے غصے کا باعث بن جائیں پھر اس کا خمیازہ کون کون اور کہاں کہاں بھگتے گا اس برے وقت کے آنے سے پہلے پہلے مظلوموں پر جاری ظلم وتشدد کو رکوانے میں ھر کوئی اپنے حصے کا کام فی الفور کرے.اقوام متحدہ اگر مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی تو نہ کرے روہنگیا والوں کے انسانی حقوق کا ھی خیال کرلے.مسلمان ملکوں کی او آئی سی کہاں مرگئی ھے؟ اور وہ کس مرض کی دوا ھے؟حال ھی میں وجود میں آنے والا اسلامی اتحاد اور اس کی افواج کس گہری غار میں محو استراحت ھیں؟مسلمانوں کا بچہ بچہ یہ سوال کرتا ھے اگر کسی کے پاس جواب ھے تو مطمئن کرے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved