شہزادی کیتھرین کے تیسرے بچے کی پیدائش مارچ تک متوقع
  5  ستمبر‬‮  2017     |     یورپ

لندن (رپورٹ: شیراز خان )برطانیہ کے مستقبل کے بادشاہ یا ملکہ کی پیدائش متوقع ہے شاہی خاندان کے چشم چراغ شہزاہ ولیم اور شہزادی کیتھرین کے تیسرے بچے کی متوقع پیدائش کا اعلان آج شاہی خاندان کی طرف سے کیا گیا جس کو برطانوی میڈیا کی طرف سے بریکنگ نیوز کے طور نشر کیا گیا ہے یاد رہے کہ برطانوی عوام کو اپنی نئی شہزادی یا شہزادے کی آمد یا پیدائش کا انتظار آئندہ سال موسم بہار مارچ یا اپریل تک کا انتظار کرنا پڑے گا موسم بہار آتے ہی برطانیہ کے کھیت اور کھلیان کھل اٹھتے ہیں سرخ و سفید گلاب سے فضا معطر ہوجاتی ہے شاہی خاندان کے محلوں میں جو نیا پھول کھلنے والا ہے وہ نہ صرف شاہی خاندان کو اکٹھا کرے گا بلکہ برطانوی قوم کے لئے جشن منانے کا بہانہ ہوگا نیا چشم و چراغ دنیا کی خوبصورت شہزادی ڈیانا کا پوتا پوتی ہوگا جس کی حال ہی میں 31 اگست کو بیسویں برسی منائی گئی ہے شہزادی ڈیانا کی جب بھی کوئی تصویر سامنے آتی ہے تو 20 سال گزرنے کے بعد بھی کسی کو یقین نہیں آتا کہ شہزادی ڈیانا مر چکی ہے زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے - یہی ہے زندگی اور زندگی کی حقیت -کوئی آ رہا ہے تو کوئی جا رہا ہے ۔یاد رہے شاہی خاندان کے چشم و چراغ کی امد کی نوید قوم کو ایک ایسے وقت میں سنائی گئی جب ملکہ برطانیہ نے قوم کے نام موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے پہلے روز پیر کو کام پر واپس جانے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی خود کام کا عملی طور پر آغاز اکیانوے سال کی عمر میں سکاٹ لینڈ کی چوتھے کراسنگ کا افتتاح کرکے کیا ہے برطانوی معاشرے میں مساوات اور برابری نہ صرف قانون، انصاف اور دیگر شعبوں میں عملی طور پر نافذ ہے بلکہ لفظوں میں بھی برابری کی ٹرم کا استعمال ہوتا ہے جیسے جس سے پوچھو کہاں ہو کام پر ہوں یا ورک پر ہوں کوئی نہیں کہے گا دفتر میں ہوں پارلیمنٹ میں میں ہوں جہاز چلا رہا ہوں سب بولیں گے کام پر ہوں ملکہ برطانیہ نے جو ٹویٹر پر اپنا پیغام میں لفظ ورک استعمال کیا ہے بس کام اور کام ہی اس معاشرے کی ترقی کا راز ہے گھڑی کی سویوں کی رفتار کے ساتھ چلنا ہی اس معاشرے میں رہنے والوں کے لئے چیلنج ہوتا ہے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved