وٹفورڈکمیونٹی فورم تنظیم قائم،پروفیسرلیاقت علی ترجمان منتخب
  13  ستمبر‬‮  2017     |     یورپ

وٹفورڈ (مسرت اقبال) اقوام متحدہ اینڈ سکیورٹی کونسل برما میں روہنگیا کے مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ٹھوس و مثبت اقدامات کرے۔ ان خیالات کا اظہار وٹفورڈ کے کمیونٹی رہنمائوں نے نئی تنظیم وٹفورڈ کمیونٹی فورم کے قیام کے موقع پر کیا۔ اس اجلاس میں زاہد عثمان' پروفیسر لیاقت علی خان' امجد امین بوبی' شہزاد مجید' چوہدری عبدالمجید' چوہدری محمد شاہپال' شفقت اقبال چوہدری' محمد افسر اینڈ دیگر شامل ہیں۔ ان رہنمائوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بنیادی طور پر وٹفورڈ کمیونٹی فورم کا قیام کمیونٹی کی متفقہ آواز ہے تاکہ کمیونٹی کے ہر طرح کے معاملات کو باہمی مشاورت اور باہمی اتحاد' اتفاق رائے کے ساتھ حل کرنے کے لئے اقدامات کئے جاسکیں۔ یہ فورم غیر سیاسی ہوگا اس غیر سیاسی فورم میں دیگر افراد شامل ہوسکتے ہیں۔ نہ ہی اس فورم میں سیاسی معاملات کو زیر بحث لایا جاسکتا ہے۔ دوران اجلاس فورم کے ترجمان کیلئے پروفیسر لیاقت علی خان کو منتخب کیا گیا جبکہ ممبران کمیونٹی فورم اس کے ممبرز ہوں گے تمام فیصلے ان کے باہمی مشاورت سے طے کئے جائیں گے۔ دوران اجلاس وٹفورڈ کمیونٹی فورم کے رہنمائوں نے برما میں روہنگیا کے مسلمانوں پر بدھ مت کے بھکشوئوں اور برما آرمی کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مسلمانوں کی ہلاکت' ظلم و تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس موقع پر چوہدری محمد افسر نے کہا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اپنے حلقوں میں لوکل ایم پی سے ملاقات کرکے ان کو برما میں ہونے والے مسلمانوں پر ظلم و تشدد اور مسلمانوں کی نسل کشی جیسے حالات واقعات سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا لندن میں کامیاب مظاہرہ ہوجانے کے بعد برما میں روہنگیا کے مسلمانوں پر مظالم جاری ہیں۔ اس وقت چار لاکھ سے زائد روہنگیا کے مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں فورم کے ترجمان پروفیسر لیاقت علی خان نے اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کے مستقل ممبر ملکوں سے اپیل کی کہ وہ برما میں روہنگیا کے مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وہاں اقوام متحدہ کی امن آرمی تعینات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے ذریعے برما مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے تنظیم کے ممبر چوہدری عبدالمجید نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ برما میں بلا جواز مسلمانوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر برما حکومت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلائے۔ امجد امین بوبی نے کہا روہنگیا مسلمانوں کی ریاست ہے وہ صدیوں سے وہاں رہ رہے ہیں برما حکومت روہنگیا کے مسلمانوں کو برما کا شہری تسلیم کرے اور ان کو بنیادی حقوق دے کر انسانی حقوق کے تقاضے پورے کرے ۔ شہزاد مجید نے کمیونٹی فورم میں تقریرمیں کہا کہ او آئی سی پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ برما کے ساتھ اپنے تعلقات کو روہنگیا کے مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ مشروط کرے۔ روہنگیا کے مسلمان امت مسلمہ کے اتحاد کا حصہ ہیں وہ ہمارے بھائی ہیں او آئی سی کے ممبر ممالک روہنگیا کے مسلمانوں کی جانی و مالی مدد کریں۔ شفقت اقبال نے تقریر میں کہا کہ حکومت روہنگیا کے مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم کرے وہ برما کے شہری ہیں انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا کے مسلمانوں کیلئے برما میں علیحدہ وطن کے قیام کے لئے اقدامات کرے کیونکہ برصغیر میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد برما حکومت نے روہنگیا اور دیگر صوبوں کو زبردستی برما میں شامل کیا تھا۔ چوہدری محمد شاہپال نے لندن میں برما ایمبیسی کے سامنے برما حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہرے کو ایک مثالی مظاہرہ قرار دیا ہے وٹفورڈ اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں عوام نے برما میں روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مطالم پر جس طرح اپنے دکھ بھرے جذبات اور خیالات اور متحد ہو کر جو کامیاب مظاہرہ کیا ہے اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس ظلم کے خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ آخر میں ان تمام رہنمائوں نے لک چوہدری لیاقت کا انتہائی دلی شکریہ ادا کیا جنہوں نے روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے لندن میں برما ایمبیسی کے سامنے مظاہرے کئے وٹفورڈ سے شریک ہونے والے افراد کو فری بسوں کا انتظام کیا موصوف نے ان مظاہروں کی قیادت کی آخر میں شہدائے روہنگیا کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved