برمامیںمظالم کیخلاف رانابشارت کی اپیل پرچالیس ہزارافرادنے لبیک کہا
  13  ستمبر‬‮  2017     |     یورپ

لندن( ا و صا ف نیو ز )دنیا بھر میں ناانصافی کے اس عالم میں ہم اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کوئی ایک مرد یا عورت کر بھی کیا سکتا ہے؟ کیا میری کوششوں سے کوئی فرق پڑے گا؟ اور ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ مسائل ہیں ہی اتنے زیادہ۔ ہم خود کو یہی تسلی دے دیتے ہیں کہ ہماری کوششوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہم محض تھوڑا بہت درد محسوس کرتے ہیں اور واپس اپنے معمولات میں لگ جاتے ہیں کیونکہ مسائل ہیں ہی اتنے زیادہ۔ لیکن حقیقت اس کے عین برعکس ہے۔ عام طور پر کوئی ایک مرد یا عورت ہی ہوتی ہے جو ساری تبدیلی لاتا ہے یا لاتی ہے۔ ایسی ہی ایک مثال رانا بشارت کی ہے۔ صرف سات دن پہلے ہم سب کی طرح وہ بھی خبریں دیکھ رہے تھے کہ میانمر کے ریاستی ادارے روہنگیا برادری پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ لیکن ہم سب کے برعکس انہوں نے کچھ کرنے کی ٹھان لی کہ وہ اپنی آواز اٹھائیں گے۔ اور اس کے لئے ان کی خواہش تھی کہ ہم سب ان کی مدد کریں۔ انہوں نے ایک روہنگیا پناہ گزین سے رابطہ کیا اور ان سے براہ راست بات کی جس نے انہیں بہت متاثر کیا۔ اپنے بچوں کے ساتھ عیدالاضحی منانے کے لئے آئرلینڈ سے واپس انگلینڈ آنے کی بھاگ دوڑ کے دوران ان کے دماغ پر میانمر کے روہنگیا لوگوں کی فکر سوار رہی۔ وہ لوگ اس سال عید کس طرح منائیں گے؟ کیا گولیوں کی بوچھاڑ میں؟ اپنے گھروں کو جلتے دیکھ کر؟ اپنے پیاروں کو مرتے دیکھ کر؟ گھر واپسی کے اسی سفر میں ان کا عزم اور بھی مضبوط ہو گیا کہ وہ ان بدحال مصیبت کے ماروں کی مدد ضرور کریں گے۔ ان کی زندگی میں ہر دوسری چیز کی اہمیت کمتر ہو گئی۔ شروعات کے طور پر انہوں نے اپنے آبائی شہر برسٹل میں ایک اجلاس کا اہتمام کیا اور کمیونٹی کے باصلاحیت مقامی لیڈروں اور نچلی سطح کے کارکنوں کو اکٹھا کیا جو ان کی آواز پر جمع ہو گئے۔ ان لوگوں نے لندن میں میانمر کے سفارتخانے کے باہر فی الفور احتجاجی مظاہرہ کرنے اور ڈائوننگ سٹریٹ کی طرف مارچ کرنے پر اتفاق کیا۔ ان کا خیال تھا کہ بمشکل دو سو لوگ ان کے ساتھ چلیں گے۔ لیکن یہ تحریک بڑھتی گئی۔ ان کی آواز بلند ہوتی گئی۔ اور یہ آواز سنی گئی اور برمنگھم، اوکسفرڈ اور لندن سمیت پورے انگلینڈ سے لاتعداد لوگوں نے اس پر لبیک کہا۔ رانا بشارت کی پہلی اپیل کے سات دن بعد زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے چالیس ہزار افراد اس عظیم مقصد کی خاطر ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ یہ لوگ لندن میں میانمر کے سفارتخانے کے باہر رانا بشارت کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ پھر انہوں نے ڈائوننگ سٹریٹ کی طرف مارچ کیا اور میانمر کی استبدادی فوج کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور ہولناک بربریت کے خلاف اپنی آواز بلند سے بلند تر کی۔ اب اگر کوئی یہ سوال پوچھے کہ کیا کسی ایک شخص کی کوششوں سے فرق پڑ سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ ہاں، ایک فرد واحد کی کوششوں سے فرق پڑ سکتا ہے بشرطیکہ یہ شخص جذبے اور عزم کی قوت سے سرشار ہو۔ رانا بشارت نے یہ کر دکھایا۔ آپ بھی کر سکتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز


یورپ

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved