ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کروڑوں کا ٹیکہ لگانے کی تیاریاں ، گلگت کی عوام میں شدید مایوسی‎
  10  جنوری‬‮  2017     |     گلگت بلتستان
گلگت( وقائع نگار خصوصی ) محکمہ واٹر اینڈ پاور سب ڈویژن جگلوٹ کے ملازمین کا ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کاغذی کاروائیوں پر قومی خزانے کو کروڑوں کا ٹیکہ لگانے کی تیاریاں مکمل کرلی عوام میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کاغذری کاروائی پر شدید مایوسی ، ایکشن کمیٹی جگلوٹ کا محکمہ برقیات سے نوٹس نہ لینے پر کے کے ایچ کو جام کرنے کی دھمکی دیدی سب ڈویژن جگلوٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مشکور احمد ، نائب صدر مولانا ضیاء الرحمن ، نمبردار حمایت اللہ ، ڈاکٹر معروف ، برکت اللہ میر ، سیف الدین و دیگر نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے سب ڈویژن جگلوٹ میں عوام سے کئے وعدے پر ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھادیا مگر بدقسمتی سے جگلوٹ محکمہ برقیات کا عملی ہی عوامی منصوبوں کے نام پر کاغذی کاروائی کرکے کروڑوں کے بلات جمع کرکے عوام کو نقصانات پہنچانے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں جن میں ایس ڈی او مبشر، گریڈ 1بجلی لائن مین،افتخارو دیگر عملہ شامل ہے جو جگلوٹ کے عوام کے ساتھ زیادتی و ناانصافی ہے حالانکہ برقیات کا ملازم ٹھیکے ہی نہیں لے سکتا ہے انہوںنے کہا کہ جگلوٹ سب ڈویژن میں بجلی کے 2نمبر کھمبے لگادئے گئے ہیں اور تمام کھمبے اپنے من پسند افراد کے زمینوں پر لگاکر ضرورت مندوں کو دیوار سے لگادیا گیا ہے جبکہ ایک ہی کھمبے کو چار چار جگہوں میں ظاہر کرکے کاغذی کاروائیوں کے زریعے کروڑوں ہڑپ کرنے کے لئے جعلی بلات جمع کرادئے گئے ہیں جس سے عوامی منصوبے جگلوٹ کے عوام کے لئے قبرستان بن گئے ہیں جس سے عوام میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے عوامی ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کو بھی دو نمبری کے زریعے خزانے کو ٹیکہ لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی عمائدین ایکشن کمیٹی نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ، سیکریٹری پانی و بجلی سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لیکر کرپشن میں ملوث عملے کے خلاف کاروائی کو یقینی بناکر عوامی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے احکامات جاری کریں بصورت دیگر عوام سڑکوں پر نکلنے میں مجبور ہونگے ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 

رپورٹر   :  



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved