پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں معیار کا فقدان ، من مانی قیمتیں وصول
  19  مارچ‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت ( روزنامہ اوصاف ) گلگت بلتستان میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کی عدم موجودگی غیر معیاری تعلیم کا عام ہونے کے باعث معاشرے میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ۔ ذرائع کے مطابق اکثر پرائیویٹ تعلیمی ادارے برائے نام فیس کی وصولی کیلئے رہائشی مکانات میں کھول کر مالکان کاروبار میں سرگرم عمل ہیں جسکی غیر معیاری کے باعث بے روزگاری میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ مالکان پرائیویٹ تعلیمی ادارے من پسند فیس وصول کرتے ہیں اور تعلیمی اداروں کو کمرشل بنا کر اکثر بند رکھتے ہیں جبکہ فیس باقاعدگی سے وصول کرتے ہیں جسکی وجہ سے غیر معیاری تعلیم کا سلسلہ عرو پر ہے اور اکثر کالجز اور سکولوں میں غیر معیاری سلیبس ، لیب اور کمپیوٹر لیب کی عدم موجودگی اور رہائشی مکانات پر تعلیمی ادارے کے قیام سے معیاری کمروں کی عدم موجودگی والدین کو شدید مشکلات میں ڈال رکھا ہوا ہے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نوٹس لیکر فوراً ان تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم دیدیں جو اکثر بند رہتے ہیں اور پورے سال میں چار ماہ برائے نام کھول کو فیس وصول کی جاتی ہے اور اس رجحان کو روکنے کیلئے غیر جانبدار افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جائے او جانچ پڑتال کے بعد ان اداروں کی نشاندہی کریں جو کمرشل مقاصد کیلئے کھول کو فیس وصول کررہے ہیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved