قتل کے دو الگ الگ مقدما ت ، بریت کی اپیلیں مسترد ،2ملزمان عمر قید کی سزا
  18  اپریل‬‮  2017     |     گلگت بلتستان
گلگت( اوصاف نیوز)جسٹس وزیر شکیل اور جسٹس ملک حق نوا زنے میاں بیوی قتل مقدمے کے ملزم خوشبرکی اپیل کو مسترد کرکے ملزم کو عمر بھر قید اور4لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ فیصلہ12صفحات پر مشتمل جو جسٹس ملک حق نواز نے تحریر کردیاجس کو عدالت نے سنانے کے بعد دونوں ججز کے دستخط سے جاری کر دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق ملزم خوشبر ساکن تانگیر نے مسمی خوبت اور اسکی بیوی کو تانگیر کے مقام پر گھر میں گھس کر قتل کردیا تھا ۔مذکورہ بالا جرم پر پولیس نے تھانہ تانگیر میں ملزم کیخلاف ایف آئی آر نمبر13/2012 بجرم 302 - 457/34 درج کر کے مقدمہ قائم کیا بعد ازاں ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش مکمل کر کے چالان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دیامر کی عدالت میں پیش کردیا ۔فاضل عدالت نے گواہان کی گواہی اور ریکارڈ کی روشنی میں 8دسمبر 2015ء کو ملزم خوشبر کو عمر بھر قید بمعہ جرمانہ سزا سنائی تھی ملزم نے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ چیف کورٹ گلگت بلتستان میں اپیل دائر کر دی تھی جو سماعت کیلئے منظور کر کے جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس وزیر شکیل پر مشتمل بینچ قائم کرکے مقدمے کی با قاعدہ سماعت شروع کردی گئی جہاں دونوں ججزنے 4مارچ 2017ء کو مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے دونوں فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے اور ریکارڈ کی روشنی میں جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس وزیر شکیل نے ملزم خوشبرکی اپیل کو مستر د کرتے ہوئے عمر بھر قید کی سزا کو بر قرار رکھتے ہوئے فیصلہ سنا دیا ۔جبکہ سرکار کی جانب سے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل ملک شیر با ز اور ملزم کی جانب سے جہانزیب خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دئیے ۔فیصلہ 12صفحات پر مشتمل ہیں جو جسٹس ملک حق نواز نے تحریر کر دیا بعد ازاں دونو ں ججز کے دستخط سے فیصلہ عدالت میں سنانے کے بعد جاری کر دیا گیا ۔دوسرے مقدمے میںجسٹس وزیر شکیل اور جسٹس ملک حق نواز نے دراش قتل مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ملزم ثناء اللہ ساکن پٹھان محلہ تانگیر کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے عمر بھر قید کی سزا سنا دی ۔فیصلہ 9صفحات پر مشتمل ہیں جو جسٹس ملک حق نواز نے تحریر کردیا ۔تفصیلات کے مطابق ملزم ثناء اللہ نے تحت ایف آئی آر نمبر36/11بجرم 302/34 تانگیر کے مقام پر مسمی دراش ولد لشکر خان کو مقامی زکواۃ کمیٹی کے ممبران کی نامزدگی کے دوران جھگڑے پر قتل کر دیا تھا ۔پولیس نے ملزم ثناء اللہ کو گرفتار کر کے تفتیش مکمل کر کے چالان فاضل عدالت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دیامر کی عدالت میں پیش کیا جو فاضل عدالت نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے مورخہ 20نومبر 2014ء کو سماعت کرتے ہوئے ملزم کو عمر بھر قید بمعہ 2لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی تھی ۔ملزم نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دیامر کے فیصلے کے خلاف چیف کورٹ گلگت بلتستان میں اپیل دائر کر دیا تھا ۔چیف جسٹس نے اپیل کو منظور کرتے ہوئے باقاعدہ سماعت کیلئے جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس وزیر شکیل کی عدالت میں بھیج دیا تھا جس کے تحت جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس وزیر شکیل نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے 4اپریل 2017ء کو دونوں فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 18 اپریل 2017ء کو ملزم ثناء اللہ ساکن پٹھان کوٹ محلہ تانگیر ضلع دیامر کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کو عمر بھر قید اور 2لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی ۔سرکار کی جانب سے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل ملک شہباز اور مقتول کی جانب سے ملک کفایت الرحمن اور ملزم کی جانب سے جہانزیب خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دئیے فیصلہ 9 صفحات پر مشتمل ہیں جو جسٹس ملک حق نواز نے تحریر کر کے عدالت میں سنانے کے بعد دونوں ججزوں کے دستخط سے جاری کر دیا گیا

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved